تل ابیب کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر حماس کا جنوبی افریقہ کیلئے اظہار تشکر
261
M.U.H
12/01/2024
جنوبی افریقہ نے انٹرنیشنل کورٹ میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم کی درخواست دائر کی۔ جس کی فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے بہت تعریف کی۔ اس حوالے سے حماس کے پولیٹیکل ایڈوائزر "عزت الرشق" نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے پیش کردہ دلائل سے دنیا پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صیہونی رژیم کے ہاتھ فلسطینیوں کی نسل کشی اور اجتماعی قتل سے رنگے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ نے ایک بار پھر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے اصولی موقف کو دُہرایا۔ جنوبی افریقہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہماری ملت اور جائز قانونی حقوق کے خلاف صیہونی وحشیانہ جرائم کا مخالف ہے۔ انہوں نے اس شکایت کو تل ابیب کے حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کے اجتماعی قتل کا ٹرائل قرار دیا۔ عزت الرشق نے مزید کہا کہ یہ شکایت غزہ کی نہتی عوام کے خلاف صیہونی حملوں کو رکوانے کی ایک معقول دلیل ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی کورٹ نے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی شکایت پر آج پہلی سماعت کی۔ یہ سماعت گرینویچ کے مقامی وقت 9:00 بجے شروع ہوئی۔ اس عدالت میں جنوبی افریقہ کے نمائندے نے کہا کہ صیہونی رژیم غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ پالیسیاں لاگو کئے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے 1948ء سے فلسطینی عوام کو منظم طور پر بے گھر اور منتشر کیا۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو دبائے رکھا۔ ہم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے نسل پرستانہ قوانین اور بدلتی پالیسیوں پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے کچھ ہفتے قبل انٹریشنل کورٹ میں اسرائیل کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں تل ابیب پر غزہ جنگ کے دوران نسل کش اقدامات کے الزامات لگائے گئے۔ 84 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں جنوبی افریقہ نے اس امر کی وضاحت کی تھی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کے تحت نسل کش جرائم کو روکنے کے کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اسرائیل اور جنوبی افریقہ دونوں ہی نے اس کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں جو تنازعات کو نمٹانے کے لیے اقوام متحدہ کی سپریم لاء اتھارٹی کے طور پر بین الاقوامی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ساوتھ افریقہ کے نمائندے نے کہا کہ نسل کشی کا کبھی بھی پہلے سے اعلان نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 ہفتوں کے شواہد عالمی عدالت کے سامنے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں اسرائیل، فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غزہ کی صورت حال بین الاقوامی عدالت کی مداخلت کی منتظر ہے۔ انہوں نے عالمی عدالت سے مطالبہ کیا کہ روھنگیا کے کیس کی طرح صیہونی رژیم کے خلاف بھی کوئی قدم اُٹھایا جائے۔