اسمارٹ سٹی مشن پر راہل گاندھی کا سوال، 48 ہزار کروڑ خرچ، مگر شہری زندگی میں کیا بدلا؟
14
M.U.H
31/03/2026
لوک سبھا میں اسمارٹ سٹی مشن کو لے کر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے حکومت سے اس منصوبے کے حقیقی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ ’دھوکہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی شہر اس وقت تک ’اسمارٹ‘ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی، بہتر فضا اور بنیادی تحفظ فراہم نہ کرے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اس منصوبے کی مسلسل تعریف کرتے رہے لیکن جب یہ منصوبہ اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے تو اس کے نتائج مایوس کن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعریف کیا ہے، کامیابی کا معیار کیا رکھا گیا، کتنے شہر واقعی بدلے اور عام لوگوں کی زندگی میں کیا ٹھوس بہتری آئی۔
حکومت کی جانب سے دیے گئے جواب کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن کے تحت مرکز نے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے مختص کیے، جن میں سے 47 ہزار کروڑ سے زیادہ کی مالی مدد جاری کی جا چکی ہے اور تقریباً 46 ہزار کروڑ روپے استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت 100 شہروں میں 8 ہزار سے زیادہ پروجیکٹ شروع کیے گئے، جن میں سے 97 فیصد مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ منصوبے ابھی عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔
تاہم، راہل گاندھی نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی 97 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں تو پھر شہروں میں بنیادی مسائل کیوں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی شہروں میں آلودہ پانی، کھلے نالے، گرتے پل اور دھنسکتی سڑکیں عام ہیں، جو اس منصوبے کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔
وزیر مملکت برائے شہری امور توکھن ساہو نے اپنے جواب میں وضاحت کی کہ اسمارٹ سٹی مشن کا مقصد پورے شہر کی یکساں ترقی نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں جدید سہولیات فراہم کرنا تھا، جس کے تحت ری ٹروفٹنگ، ری ڈیولپمنٹ اور گرین فیلڈ منصوبے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کے ذریعے شہر کے کچھ حصوں میں ترقی کا نمونہ تیار کرنا مقصود تھا، تاکہ اسے دیگر علاقوں میں بھی اپنایا جا سکے۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن نے شہری ترقی کے میدان میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے اور یہ قومی ترقیاتی اہداف کے مطابق ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن اس بات پر زور دے رہی ہے کہ یہ منصوبہ عام شہری کی زندگی میں واضح تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شہروں کا جائزہ لیں اور خود فیصلہ کریں کہ آیا یہ وہی ’اسمارٹ سٹی‘ ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے اعلانات اور تشہیر کے باوجود جوابدہی کا فقدان اس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔