اب پاکستان کاایران پر حملہ، فضائی حملے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ
268
M.U.H
18/01/2024
اسلام آباد: ایران کے فضائی حملے کے بعد اب پاکستانی فوج نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے مشرقی ایران کے شہر سروان کے قریب ایک بلوچ دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ کیا ہے جو پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ سیستان اور بلوچستان کے اندر تقریباً 20 میل دور ہے۔ پاکستانی میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا کہ اس حملے کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانے پر زبردست آگ بھڑک اٹھی جس سے آس پاس کے علاقے میں دھواں پھیل گیا۔ دوسری جانب اے ایف پی نے مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران میں اس میزائل اور ڈرون حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان حملوں کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پاکستانی نیوز ویب سائٹ پاکستان ڈیلی کے مطابق پاکستان نے ایران میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس نے اس فضائی حملے کے بعد پاکستانی فضائیہ کی ایک مبینہ فوٹیج بھی جاری کی ہے جس میں وہاں ایک بڑا گڑھا بنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو میں کئی لوگ مشعلوں کے ساتھ موقع پر کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ > پاکستانی صحافی غلام عباس شاہ نے ٹویٹ کیا کہ بلوچ لبریشن فرنٹ نے اپنے کیمپ پر فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی فضائیہ نے ایران کے صوبہ سیستان۔بلوچستان میں 40 سے 50 کلومیٹر کے دائرے میں واقع بی ایل اے کے 7 تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دراصل ، پاکستان ایران کی جانب سے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں سنی دہشت گرد گروپ جیش العدل کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے سے بہت ناراض ہے۔ اس نے حملوں کے اگلے دن بدھ کو ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور تمام اعلیٰ سطحی دوطرفہ دوروں کو بھی معطل کر دیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ منگل کو پاکستان میں بلوچ دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے دو ٹھکانوں پر میزائل داغے گئے۔ اس حملے سے برہم ہو کر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ 'گزشتہ رات بغیر کسی اشتعال کے ایران کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ غیر قانونی اقدام مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اسے کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا، 'پاکستان کو اس غیر قانونی اقدام کا جواب دینے کا حق ہے۔ اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری ایران پر عائد ہوگی۔ایران کے اس حملے کے بعد اب پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کی علی الصبح ایرانی سرحد کے اندر داخل ہو کر فضائی حملہ کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔