غزہ کے ساتھ امریکی بندرگاہ سے برطانیہ نے آپریشن شروع کر دیا: رشی سونک
271
M.U.H
18/05/2024
لندن:امریکہ کے یورپ میں سب سے بڑے اور اہم اتحادی ملک برطانیہ نے جمعہ کے روز پہلی بار امریکہ کی تعمیر کردہ نئی اور عارضی بندرگاہ استعمال کرتے ہوئے اس سے غزہ کے لیے امدادی سامان کی فراہی ممکن بنائی ہے۔ یہ نئی امریکی بندرگاہ امریکی پینٹاگون کی ماہ مارچ سے اب تک کی تیز رفتار تعمیراتی صلاحیتوں اور اہلیت کا ثبوت ہے۔اس بندر گاہ کو صدر جوبائیڈن کے سٹیٹ آف یونین خطاب کے دوران کیے گئے اعلان کی بنیاد پر بہت تھوڑے عرصے میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس بندرگاہ کی تعمیر غزہ کی پٹی سے متصل سمندر میں کی گئی ہے اور مقصد امدادی سامان کے ساتھ غزہ تک آسان رسائی اور دسترس بتائی گئی ہے۔
برطانیہ کی اس امریکی بندرگاہ کو پہلی بار استعمال کرنے کی اطلاع برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کی طرف سے دی گئی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے پچھلے دنوں دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ برطانیہ اپنی فوج کو اس بندرگاہ پر تعینات نہیں کرے گا۔ البتہ سول کنٹریکٹرز کو اس مقصد کے لیے کار آمد ضرور بنایا جا سکتا ہے۔ادھر نئے اعلان میں رشی سونک نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بندرگاہ سے مزید امداد غزہ میں پہنچائی جا سکے گی۔ ان کا صاف کہنا تھا ہم جانتے ہیں کی بحری راستہ غزہ میں امداد پہنچانے کا واحد راستہ نہیں ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ رسائی کی خاطر غزہ کے لیے مزید زمینی راستے کھولنے چاہئے۔