اسرائیلی وزیراعظم کا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ
441
M.U.H
21/05/2024
عالمی عدالت جرائم نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا کے مطابق عالمی عدالت جرائم کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے سی این این کو انٹرویو میں بتایاکہ جنگی جرائم پر نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع کے وارنٹ مانگے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کے حملوں پر حماس کے رہنماؤں اسمٰعیل ہنیہ اور یحیٰ سنوار سمیت 3 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر کو ہونے والے حماس کے حملے میں تقریباً ایک ہزار 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ 20 اکتوبر کو غزہ پر پہلی زمینی کارروائی کے بعد سے تنازعہ میں اب تک 280 سے زائد اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔یاد رہے کہ 7 اکتوبر کے حماس حملے کے بعد سے اسرائیل کی غزہ میں بہیمانہ کارروائیاں جاری ہیں، حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں کم از کم 35 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور امدادی اداروں نے بڑے پیمانے پر بھوک ، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت سے بھی خبردار کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ان خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ غزہ میں 7 ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کرنے کے معاملے پر اقوام متحدہ کی عدالت وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو، وزیر دفاع یادیو گلانٹ اور آئی ڈی ایف چیف لفٹیننٹ جنرل ہرزی ہالیوی سمیت سینئر سیاسی اور فوجی اسرائیلی حکام کے وانٹ گرفتاری جاری کرسکتا ہے۔ان خدشات پر چند روز قبل متعدد امریکی سینیٹرز نے جرائم کی عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔ایک درجن امریکی ریپبلکن سینٹرز نے عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کو اعلیٰ اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اپنے مکتوب میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل کو نشانہ بناؤ گے تو ہم تمہیں نشانہ بنائیں گے۔ اس طرح کے اقدامات غیر قانونی اور بلا قانونی بنیاد ہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کا نتیجہ تہمارے خلاف اور تمہارے ادارے کے خلاف سخت پابندیوں کی صورت میں نکلے گا۔سینیٹرز نے خط میں الزام لگایا تھا کہ آئی سی سی 'اسرائیل کو اپنے خلاف ایرانی حمایت یافتہ جارحیت کرنے والوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے جائز اقدامات کرنے پر سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکی سینیٹرز نے لکھا تھا کہ 'یہ گرفتاری وارنٹ آئی سی سی کو دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی سرپرست اور اس کی پراکسی کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ حماس کی دہشت گردی اور اسرائیل کے جائز ردعمل کے درمیان کوئی اخلاقی مساوات نہیں ہے۔سینیٹرز نے لکھا تھا کہ آپ نے خود کہا کہ اسرائیل کے پاس تربیت یافتہ وکیل ہیں جو کمانڈروں کو مشورہ دیتے ہیں اور اس کے پاس عالمی انسانی قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام ہے۔ وارنٹ جاری کرکے آپ اسرائیل کے قوانین، نظام قانون اور جمہوری طر حکومت پر سوال اٹھا رہے ہوں گے۔خط میں کہا گیا تھا کہ 'تمہیں خبر دار کردیا گیا ہے کہ اگر آپ رپورٹ میں بتائے گئے اقدامات کرتے ہیں تو ہم آئی سی سی کے لیے تمام امریکی حمایت ختم کرنے، آپ کے ملازمین اور آپ سے منسلک افراد پر پابندی لگانے، آپ اور آپ کے اہل خانہ کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے لیے اقدامات کریں گے۔
اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ 20 اکتوبر کو غزہ پر پہلی زمینی کارروائی کے بعد سے تنازعہ میں اب تک 280 سے زائد اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔