بنگلہ دیش کی طرح بھارت میں بھی انتشار پھیلانے کی کوشش:موہن بھاگوت
372
M.U.H
12/10/2024
ناگپور:ناگپور میں منعقدہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی وجے دشمی تقریب میں اپنے خطاب میں سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات، کولکاتہ کے آر جی کر اسکینڈل، اسرائیل-حماس جنگ اور بنگلہ دیش میں ہندوو¿ں پر مظالم جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوو¿ں پر حملے ہو رہے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ انہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا سے مدد ملنی چاہیے۔ انہوں نے کولکاتہ کے آر جی کر واقعہ کو معاشرے کا سب سے شرمناک واقعہ قرار دیا۔ بھاگوت نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ بیرونی طاقتیں بنگلہ دیش کی طرح ہندوستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہندوستانیوں کو اس سازش سے باخبر رہنا پڑے گا۔ دنیا میں کچھ ایسی طاقتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ کوئی ملک ان سے آگے بڑھے۔ ہندوستان نے پچھلے کچھ سالوں میں کئی شعبوں میں ترقی کی ہے۔ جس کی وجہ سے کچھ طاقتیں بھارت کو پیچھے دھکیلنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
معاشرے کے تنوع کو الگاو¿ میں بدل کر، حکومت، انتظامیہ، قانون، ادارے وغیرہ کے تئیں توہین کا پیغام دے کر تصادم کی صورتحال پیدا کرنا، اس سے اس ملک پر باہر سے حکومت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور اسے منتر انقلاب کہتے ہیں۔
سرسنگھ چالک نے انتشار پھیلانے کی اس طرح کی کوششوں سے چوکنا رہنے پر زور دیا کہ بنگلہ دیش میں یہ چرچہ ہے کہ ہمیں ہندوستان سے خطرہ ہے اس لیے پاکستان کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ وہ مل کر بھارت کو روک سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ان مذاکروں کا انعقاد کون کر رہا ہے، جس کی تشکیل میں بھارت نے مدد کی، بھارت نے کبھی دشمنی نہیں رکھی؟ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ کن ممالک کے مفاد میں ہے کہ ایسے بیانیے وہاں جائیں۔ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ایسا ہو۔ ڈیپ اسٹیٹ، ویک ازم، کلچرل مارکسزم، یہ ہمارے ساتھ ایک طویل عرصے سے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارت مخالف قوتوں کو ملک کے اندر، دانستہ یا نادانستہ اتحادی مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ملک کی سرحدی ریاستوں میں اس کی وجہ سے کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں چوکنا رہنا ہوگا اور جلوسوں پر پتھراو¿ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ تشدد جو کہ کسی ایک شخص کی غلطی کے لیے پوری کمیونٹی کو ذمہ دار ٹھہرا نے والا تشدد ،عدم برداشت نہیں بلکہ غنڈہ گردی ہے۔ حال ہی میں گنیش وسرجن جلوس پر پتھراو¿ کیا گیا تھا۔ پولیس کو حالات کو سنبھالنا چاہیے تھا، لیکن جب تک پولیس نہیں آتی، معاشرے کو اس کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔
غنڈہ گردی کو معاشرے میں کوئی بھی قبول نہیں کرسکتا لیکن ہر کسی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ وہ کسی کو ڈرانے کے لیے یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ یہ کسی سے لڑنے کے لیے نہیں کہہ رہے بلکہ معاشرے کو مضبوط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کمزور ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بھاگوت نے کہا کہ کولکاتہ میں ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کا واقعہ کافی شرمناک ہے۔ کولکاتہ کا واقعہ پورے معاشرے کو داغدار کر رہا ہے۔
ڈاکٹرز بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن حکومتی نظام مجرموں کو تحفظ دے رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ ہماری ثقافت کو خراب کر رہا ہے۔
اس موقع پر بھاگوت نے اپنے خطاب میں اسرائیلی جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ ہر کوئی پریشان ہے کہ اس کا ان پر کیا اثر پڑے گا، سنگھ کے سربراہ ڈاکٹر بھاگوت نے کہا کہ آج آر ایس ایس اپنے کام کے 100ویں سال میں پہنچ رہا ہے۔ یہ اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ مہارانی درگاوتی، مہارانی ہولکر اور مہارشی دیانند کی 200ویں یوم پیدائش بھی منائی جارہی ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے مفاد میں بہت کام کیا ہے۔ ان کو یاد رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔ وجے دشمی تہوار میں اسرو کے سابق چیئرمین پدم بھوشن ڈاکٹر کے. رادھا کرشنن مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رادھا کرشنن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔