آخری صہیونی کے انخلا تک ہم آپ کے ساتھ ہیں: یمنی جنرل یوسف حسن المدانی
22
M.U.H
02/01/2026
یمن اسلامی کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے حماس اور القسام بریگیڈز کے نام ایک پیغام میں آزادی کے حصول تک فلسطین کے ساتھ کھڑے رہنے پر زور دیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت بالخصوص تحریک حماس اور اس کے عسکری ونگ کے لیے جاری علاقائی تعزیتی و تبریکی پیغامات کے سلسلے میں، یمن کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل یوسف حسن المدانی نے گزشتہ شب ایک پیغام میں صہیونی دشمن کے دہشت گردانہ حملوں میں عزالدین القسام بریگیڈز کے متعدد کمانڈروں کی شہادت پر حماس، پوری فلسطینی قوم اور مزاحمتی محاذ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
میجر جنرل المدانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ جب تک امتِ اسلامی میں سانس باقی ہے، پرچم سرنگوں نہیں ہوگا، اور وہ راستہ جو شہداء نے اپنے پاکیزہ خون سے ہموار کیا ہے، آزادی کے متلاشی ہر شخص کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عظیم فلسطینی قوم، جو مصیبتوں میں پروان چڑھی ہے اور سونے کی مانند ہے جو آگ میں تپ کر مزید خالص ہو جاتا ہے، اسی قوم نے مزاحمت کے ان عظیم رہنماؤں اور کمانڈروں کو جنم دیا ہے اور وہ آئندہ بھی ہزاروں قائدین اور رہنما پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یمن کی مسلح افواج، چاہے وہ کمانڈر ہوں یا سپاہی، ہمیشہ فلسطینی برادر قوم اور ان کی بہادر مزاحمت کے لیے طاقت اور پشت پناہی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔
انہوں نے فلسطینی قوم اور مزاحمت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو بھی راستہ اختیار کریں اور جس بھی محاذ پر لڑیں، ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو واضح فتح عطا کرے، مکمل آزادی حاصل ہو اور وہ آخری صہیونی بھی نکال دیا جائے جس نے فلسطین کی پاک سرزمین کو آلودہ کر رکھا ہے۔ میجر جنرل المدانی نے مزید کہا کہ اللہ کی مرضی کے سامنے مکمل تسلیم کے ساتھ، غم سے لبریز مگر جہادی فخر سے سرشار دل کے ساتھ، ہم نے یمن کی مسلح افواج میں امتِ اسلامی کے بہترین اور عظیم ترین کمانڈروں کی شہادت کا نذرانہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے جہادی کمانڈر محمد سنوار چیف آف اسٹاف، عظیم جہادی کمانڈر محمد شبانہ القسام بریگیڈز میں رفح بریگیڈ کے کمانڈر، عظیم جہادی کمانڈر حکم العیسیٰ اسلحہ اور جنگی خدمات کے شعبے کے سربراہ، عظیم جہادی کمانڈر رائد سعد عسکری پیداوار کے شعبے کے سربراہ، عظیم جہادی کمانڈر حذیفہ الکحلوت (ابو عبیدہ) القسام بریگیڈز کے ترجمان کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اس عظیم غم میں اپنے مجاہد بھائیوں، القسام بریگیڈز اور بہادر فلسطینی عوام کے ساتھ شریکِ غم ہیں، اسی طرح ہم اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ آپ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے، اور جو خنجر آپ کے پہلو میں اترتا ہے وہ ہمارے دل کو زخمی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاہم ہمیں تسلی اس بات سے ملتی ہے کہ ان عظیم ہیروز نے نور اور آگ سے جو باوقار مؤقف رقم کیے، انہوں نے صہیونی دشمن کو زمین بوس کیا، اس کے تکبر کو توڑا اور مزاحمت کی تاریخ میں قربانی اور ایثار کی شاندار ترین تصویریں ثبت کر دیں۔ یمن کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے کہا کہ ان عظیم مجاہدین کی جدوجہد کی بدولت امتِ اسلامی کا سر آج بھی بلند ہے، اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ صہیونی دشمن خواہ جتنا بھی ظلم، جبر اور درندگی اختیار کرے، وہ ناگزیر اور تباہ کن زوال کی طرف ہی بڑھ رہا ہے۔ میجر جنرل یوسف المدانی نے مزید کہا کہ صہیونی رجیم کا خاتمہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا دشمن جو تمام معاہدوں اور وعدوں کو پامال کرتا ہے، جنگ بندی کے ادوار میں بھی نفرت انگیز قتل و غارت کے ذریعے اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دیتا ہے، اور اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں مزاحمت کا سامنا کرنے سے قاصر ہے، وہاں جہاں اس کے ہتھیار مزاحمت کی بے مثال اور افسانوی استقامت کے سامنے ٹوٹ گئے۔ دوسری جانب، یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سینئر رکن محمد علی الحوثی نے بھی اسی مناسبت سے ایک پیغام میں فلسطینی مزاحمت کے کمانڈروں کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم قائدین صہیونی قتل و دہشت گردی کی مشین کے مقابلے میں، فلسطینی قوم، القدس اور مسجدِ اقصیٰ کے دفاع کی اگلی صفوں میں، اور صہیونی مجرمانہ رجیم کے خلاف طوفانِ اقصیٰ کی جنگ کے دوران شہید ہوئے۔
صنعا حکومت کے اس عہدیدار نے اپنے پیغام میں صہیونی رجیم کی جانب سے امتِ اسلامی کو نشانہ بنانے، تفرقہ پھیلانے، فتنہ انگیزی اور مداخلت کی جاری مجرمانہ سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی، جن میں تازہ ترین مثال صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند علاقے کو تسلیم کرنا ہے۔ انہوں نے صہیونی مداخلت کے مقابلے میں انصاراللہ تحریک کے رہنما سید عبدالملک الحوثی کے جرات مندانہ مؤقف کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مؤقف یمنی قوم کے عزم اور امریکہ و اسرائیل کی استکباری اور توسیع پسندانہ سازشوں کو ناکام بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جو امتِ اسلامی کے جغرافیے اور وسائل پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔