مہاجرین کریک ڈاؤن کے خلاف امریکا بھر میں احتجاج، اسکول اور کاروبار متاثر
12
M.U.H
02/02/2026
یہ ملک گیر عوامی ہڑتال امریکا کے مختلف شہروں میں کی گئی، جسے سینکڑوں سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت حاصل تھی۔
کاروبار بند رہے اوربڑی تعداد میں لوگوں نے اسکول اور کام چھوڑ کر شدید سردی میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج میں شرکت کی۔
بعض خریداری کے مراکز مظاہرین کو پناہ اور کھانا فراہم کرنے کے مقامات میں تبدیل ہوگئے۔ اس ہڑتال کو منظم کرنے میں مینیسوٹا کی طلبہ تنظیموں نے مرکزی کردار ادا کیا۔
یاد رہے مینیسوٹا میں جنوری کے آغاز میں دو مقامی مظاہرین کو سیکیورٹی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے نتیجے میں بغیر وارنٹ گرفتاریوں اور خاندانوں کی جبری علیحدگی جیسے واقعات سامنے آئے ہیں۔
امریکن اسلامک کونسل نے، جو اس ہڑتال کے حامی تنظیموں میں شامل ہے، ایک بیان میں کہا ہے کہ “ہم تمام امریکیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ہڑتال میں شریک ہوں اور واضح پیغام دیں کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے اقدامات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور انہیں فوراً روکا جانا چاہیے۔”