’ایران پر حملوں کی حمایت ناممکن‘، امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جوزف کینٹ نے دیا استعفیٰ، کہا – ”ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا“
39
M.U.H
17/03/2026
واشنگٹن – امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف کینٹ نے ایران کے خلاف جاری حملوں کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ یہ حملہ غیر ضروری تھا اور وہ اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ کینٹ نے یہ خط اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے ایران پر کیے گئے ایئر اسٹرائیک کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے دباؤ میں کیا گیا حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم انہوں نے اپنی ضمیر کی آواز پر اٹھایا اور کافی غور و فکر کے بعد نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، جو آج سے مؤثر ہے۔
ایران کے خلاف جنگ پر اعتراض
کینٹ نے لکھا کہ ایران سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ واضح ہے کہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی گئی۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا، “میں اپنے ضمیر کے خلاف جا کر اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔ میں ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی وکالت کرتا ہوں جن کے تحت آپ نے 2016، 2020 اور 2024 میں انتخابی مہم چلائی اور اپنے پہلے دور میں بھی نافذ کیں۔ جون 2025 تک آپ سمجھتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگیں ایک ایسا جال ہیں جو امریکہ کے شہریوں کی جان اور قوم کی دولت کو نقصان پہنچاتی ہیں”۔
خط کے آخر میں کینٹ نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس راہ سے پیچھے ہٹیں اور امریکہ کے لیے ایک نیا راستہ اپنائیں۔ انہوں نے کہا، “اب جراتمندانہ قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ آپ اپنا راستہ بدل سکتے ہیں یا ہمیں مزید تباہی اور افراتفری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ سب کچھ اب آپ کے ہاتھ میں ہے”۔ اس استعفے اور خط نے امریکی سیاست میں ایران پر موجودہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اعلیٰ سطح کے افسران بھی ضمیر کی بنیاد پر اس جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کی خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی بحث میں اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔