ایران کے خلاف جنگ کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوں گے: یمن
13
M.U.H
14/05/2026
نائب یمنی وزیر خارجہ "عبد الواحد ابو راس" نے ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" کے نام ایک پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف تازہ ترین امریکی و صیہونی جارحیت پر بات کی۔ عبد الواحد ابو راس نے تہران کے خلاف وحشیانہ و جارحانہ، امریکی و صیہونی حملوں کو ایران کی خودمختاری، سالمیت اور بین الاقوامی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اِن حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر معاندانہ حملے نے خطے اور دنیا کی سلامتی و استحکام کو متاثر کیا، عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کئے، درنتیجہ اس ہٹ دھرمی کے تسلسل سے خطہ اور دنیا ایسی جنگ کی جانب جائے گا جس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ پوری امتِ اسلامی پر حملے کے مترادف ہے۔
عبد الواحد ابو راس نے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس جارحیت کا مقابلہ کریں اور صیہونی منصوبے کو ناکام بنائیں جو بلا استثناء سب کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ تصادم کو ختم کرنے کے لئے بعض ممالک کی جانب سے سفارتی کوششوں کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایرانی عوام کی استقامت، ثابت قدمی اور ملی یکجہتی کو بھی سراہا۔ انہوں نے ایرانیوں کو ایک ایسی مضبوط چٹان سے تشبیہ دی جو دشمن کی سازشوں اور چالوں کو کچل کر رکھ دیتی ہے۔ نائب یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی صیہونیت اور اس کے شیطانی چیلے تہران کے خلاف جارحیت کے ذریعے کوئی ہدف حاصل نہ کر سکے۔ آخر کار دشمن کو شکست ہوئی جب کہ کامیابی، ایران اور اس کی عوام کا مقدر بنی۔ حتماََ شکست و رسوائی امت اسلامیہ کے دشمنوں کا مقدر ہے۔