شہید رہبر انقلاب امام خامنہ ای کی وداعی تقریب تہران میں باضابطہ طور پر شروع
47
M.U.H
04/07/2026
تہران کے مصلائے امام خمینی میں شہید رہبر انقلاب امام خامنہ ای کے جسد مطہر کی وداعی تقریب لاکھوں سوگواروں اور عقیدت مندوں کی موجودگی میں باضابطہ طور پر شروع ہوگئی، جہاں ملک بھر سے آنے والے عوام اپنے رہبر کو آخری سلام پیش کر رہے ہیں۔
شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای کے جسد مطہر کی وداعی تقریب تہران کے امام خمینی مصلی میں باضابطہ طور پر شروع ہوگئی۔
تقریب میں ایران بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگوار، عقیدت مند اور انقلاب اسلامی کے حامی بڑی تعداد میں شریک ہیں تاکہ اپنے شہید رہبر کو آخری سلام پیش کرسکیں۔
مصلائے امام خمینی کا ماحول صبح سویرے سے ہی غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ عزائی پرچم، تلاوت قرآن، مرثیہ خوانی اور منظم عوامی اجتماع نے اس تاریخی موقع کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔
تقریب کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے داخلی و خارجی راستوں کی تنظیم، امدادی، طبی، انتظامی اور دیگر خدمات کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں شرکا مکمل اطمینان کے ساتھ اس تاریخی وداعی تقریب میں شریک ہوسکیں۔
یہ تقریب شہید رہبر انقلاب سے عوام کی محبت، وفاداری اور قدردانی کی ایک تاریخی علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
شہید امت کے امام کی وداعی تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔
تہران کے مصلی کے صحن میں شہید ایران کے جسد کے ساتھ وداع کے لیے آنے والے عوام ابتدائی لمحات ہی سے سوگ میں ڈوبے نظر آئے۔
جارجیا سے آئے ہوئے مہمان نے تہران کے مصلی میں شہید رہبر انقلاب کی وداعی تقریب کے پہلے روز میں شرکت کی۔
تہران کے مصلی میں شہید رہبر انقلاب سے وداع کے لیے موجود عوام کا فضائی منظر
شہید رہبر کے جسد کی وداعی تقریب کے ساتھ ہی تہران کے امام خمینی مصلی کے گنبد پر سرخ پرچم "یا لثارات الحسین" لہرایا گیا۔
تہران کے مصلی میں شہید ایران سے وداع کے لیے جمع سوگوار عوام نے "امریکہ مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد" کے نعرے لگائے۔
وداعی تقریب میں شریک عوام نے "علی حیدر کرار، خامنہ ای نگہدار" کے نعرے بلند کیے۔
شہید رہبر سے وداع کے لیے مصلی پہنچنے والے عوام کی آنکھیں ابتدائی لمحات ہی سے اشکبار تھیں۔
تہران کے مصلی میں شہید ایران سے وداع کے لیے عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔
ایک سوگوار نے کہا کہ گھر کا ماحول ایسا تھا کہ وہاں رکنا ممکن نہیں رہا، اس لیے ہم گزشتہ رات ہی مصلی کے دروازے پر آ گئے تھے۔
مصلی کے دروازے کھلنے کے بعد ہر لمحہ سوگواروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
شہید ایران سے آخری وداع کے لیے عوام کی بڑی تعداد تہران کے مصلی میں داخل ہونے کے لیے جمع ہوئی۔
عوام نے مصلی میں داخلے کے ابتدائی لمحات میں سنج اور دمام بجا کر سوگ کا اظہار کیا۔
تہران کے مصلی میں عوام کی ابتدائی آمد کے مناظر، جہاں لوگ شہید ایران سے آخری وداع کے لیے جمع ہوئے۔
وداعی تقریب میں شریک عوام نے اجتماعی انداز میں نوحہ خوانی کی۔
مہر کے نامہ نگار نے مصلی میں عوام کی ابتدائی آمد کے مناظر کی رپورٹ پیش کی۔
ایران کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوام اپنے شہید رہبر سے آخری وداع کے لیے تہران کے مصلی پہنچے۔
شہید ایران سے آخری وداع کے لیے آنے والے عوام کی آنکھیں اشکبار اور فضا غم سے بھرپور رہی۔
تہران کے مصلی کے صحن میں عوام کی بڑی تعداد نے شہید ایران سے آخری وداع کے لیے شرکت کی۔