برلن میں فلسطین کی حمایت میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا گیا، جس میں اسرائیل کے لیے جرمنی کی فوری فوجی اور مالی حمایت روکنے، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اس علاقے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ فارس نیوز کے مطابق، منتظمین کے اندازے کے مطابق اس مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی، جو چند گھنٹے قبل شروع ہوا تھا۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا جب پولیس کی بھاری نفری نے علاقے میں سکیورٹی سنبھال رکھی تھی۔ روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، مظاہرہ پوٹسڈامر پلاٹز سے شروع ہوا اور شرکاء برلن کے مرکزی چوراہوں میں سے ایک الیگزینڈر پلاٹز کی جانب مارچ کرتے ہوئے گئے۔ مظاہرین نے فلسطین اور لبنان کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور فلسطینی کاز کی حمایت میں نعرے لگائے۔
انہوں نے جرمن حکام سے اسرائیلی اقدامات کے لیے اپنی مالی اور سفارتی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا، جسے مظاہرین نے نسل کشی قرار دیا۔ مظاہرین نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور بین الاقوامی انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے دوران انگریزی اور جرمن دونوں زبانوں میں نعرے لگائے گئے۔ یہ سرگرمی پرامن انداز میں منعقد ہوئی اور پولیس کی بڑی تعداد شرکاء کی سکیورٹی پر مامور رہی۔
اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے جرمنی میں وقفے وقفے سے فلسطین کی حمایت میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے دوران اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 173 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کی تقریباً 91 فیصد بنیادی تنصیبات بھی تباہ ہوچکی ہیں۔