آپریشن 'طوفانِ الاقصیٰ نے قابضین کے سیکورٹی ڈاکٹرائن کو نابود کردیا: ترجمان القسام بریگيڈ
60
M.U.H
07/10/2026
تہران :القسام بریگيڈ کے ترجمان ابوعبیدہ نےآپریشن 'طوفانِ الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر، اپنے ایک بیان میں شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس دن قابضین کی سیکورٹی ڈاکٹرائن کو ہمیشہ کے لیے دفن ہوگئي۔
حماس کے عسکری ونگ 'عز الدین القسام بریگیڈز' کے ترجمان ابو عبیدہ نے 7 اکتوبر (آپریشن طوفانِ الاقصیٰ) کی تیسری سالگرہ کے موقع پر کہا کہ اس مقدس آپریشن کو تین سال بیت چکے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے جوانوں نے اپنے طاقتور بازوؤں سے قابضین کی قابل تسخیر سیکورٹی کا افسانہ ہمیشہ کے لیے چکنا چور کردیا۔
انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اب نہ کوئی ڈیٹرنس دشمن کے پاس باقی رہی ہے، نہ اس میں کسی فیصلہ کن کارروائی کی سکت باقی ہے۔
انہوں نے غزہ کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس پیشقدمی کی قیمت بہت بھاری تھی لیکن آپ نے شاندار کردار ادا کیا اور آنے والی نسلیں آپ کے اس عظیم کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گي۔
القسام کے ترجمان نے 7 اکتوبر کو خدا کے فضل و کرم سے حاصل ہونے والا ایک عسکری معجزہ قرار دیا اور کہا کہ دوست اور دشمن دونوں نے اس کی منصوبہ بندی، عمل درآمد کی خوبیوں، نیز ماہرانہ اسٹریٹجک فریب (strategic deception) کی ذہانت کا اعتراف کیا ہے۔
ایرنا کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران غزہ نے کچھ اقوام کی خاموشی و بے حسی اور امریکہ جیسے ممالک کی جانب سے مجرموں کی پشت پناہی کے باوجود بے پناہ مظالم سہے ہیں؛ یہ خطہ اس وقت ایسے بحران سے دوچار ہے جس کی سنگینی کا اندازہ محض شہداء اور زخمیوں کی تعداد سے نہیں لگایا جا سکتا۔ غزہ کے نہتے عوام کے خلاف تقریباً تین سالہ جرائم نے اس خطے کو انسانی بحران، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور تعمیرِ نو کے ایک بڑے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے 5 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 74,243 اور زخمیوں کی تعداد 175,232 ہے۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 1,460 فلسطینی شہید اور 5,116 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بندی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مظالم کا سلسلہ تھم گیا ہے۔