اسرائیل کے دفاع کا خرچ امریکی ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر ہے: ایرانی وزیر خارجہ
22
M.U.H
23/10/2026
تہران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ 23 اکتوبر کو اپنے ایکس پیغام میں اسرائیل کے دفاع پر امریکہ کے بھاری اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ:"امریکہ نے پچھلے تین برس کے دوران اسرائیل کے خلاف میزائل ڈیفنس پر امریکی ٹیکس دہندگان کے 11 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔"
انہوں نے لکھا کہ "حقیقت میں، امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے خود اسرائیل سے زیادہ انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے ہیں۔ یہ باہمی مفادات پر مبنی رشتہ نہیں، بلکہ یہ ایک طفیلی اور یک طرفہ تعلق ہے۔"
ایرانی وزیر خارجہ نے لکھا کہ اسرائیل کے دفاع کے اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں۔
ارنا کے مطابق، وزیر خارجہ نے اس پیغام میں اکتوبر 2023 سے جون 2026 تک اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکا کی طرف سے فائر کیے جانے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی تعداد اور لاگت کے بارے میں شائع شدہ تخمینوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔
اس کے پیغام کے ساتھ منسلک ٹیبل کے مطابق، اس ڈیٹا میں درج ذیل شامل ہیں:
کل لاگت: امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل سے تقریباً 11 بلین ڈالر۔
فائر کیے گئے انٹرسیپٹر میزائلوں کی تعداد: 609۔
استعمال شدہ سسٹمز: SM-2, SM-3, SM-6, Patriot اور THAAD۔
استعمال کے اہم ادوار: اپریل اور اکتوبر 2024، جون 2025 اور فروری سے مئی 2026 کی مدت میں اسرائیل سے متعلق حملے اور تنازعات۔