نہ نل رہا نہ جل رہا، بس دیش جل رہا: کپل سبل نے مرکزی حکومت پر کی شدید تنقید
50
M.U.H
10/01/2026
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے ہفتہ کے روز بی جے پی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے گزشتہ 11 برسوں کی حکمرانی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبی اور فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
’’ہر گھر نل سے جل‘‘ پر سوال
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کپل سبل نے حکومت کی ’’ہر گھر نل سے جل‘‘ اسکیم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’نہ نل رہا نہ جل رہا، بس دیش جل رہا۔‘‘ انہوں نے منی پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تشدد بھڑکا رہا اور ملک میں جہاں نظر ڈالیں، قتل و غارت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
آراولی پہاڑیوں اور پانی کا مسئلہ
کپل سبل نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت آراولی پہاڑی سلسلے کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو دہلی کو صاف پانی فراہم کرتا ہے، جبکہ وہاں کان کنی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اندور کے پانی کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قدرتی وسائل کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔
فضائی آلودگی پر ’’صفر پالیسی‘‘ کا الزام
کانگریس رہنما نے دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’ایک انسان کی بنیادی ضرورت صاف ہوا اور صاف پانی ہے، لیکن حکومت کی اس حوالے سے پالیسی صفر رہی ہے۔‘‘
تشدد اور دوہرا رویہ
کپل سبل نے مرکز پر دوہرے رویے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم گرجا گھروں میں جا کر مبارکباد دیتے ہیں، تو دوسری طرف بجرنگ دل کے افراد تشدد میں ملوث نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا، ’’آپ کس طرح کا بھارت بنا رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر گزشتہ 15 برسوں، خصوصاً 2014 کے بعد، خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں اصل ترجیح ووٹر لسٹ کی ’’صفائی‘‘ کو بنایا جا رہا ہے اور کمیشن اپوزیشن کے خلاف کام کرتا نظر آ رہا ہے۔ کپل سبل کے مطابق، ملک کے اصل مسائل کو نظرانداز کر کے توجہ ایسے معاملات پر مرکوز کی جا رہی ہے جن کا عام آدمی کی بنیادی ضروریات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔