روسی فوج کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے فضائی دفاعی نظام نے یوکرین کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ ایف-16 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ روسی کمانڈر نے اتوار کے روز بتایا کہ روس کے ایس-300 فضائی دفاعی نظام نے یوکرین کو فراہم کیے گئے ایف-16 لڑاکا طیارے کا سراغ لگا کر اسے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، طیارے پر دو میزائل داغے گئے، جن میں سے پہلے میزائل نے طیارے کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرے میزائل نے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ کمانڈر نے کہا، "اس آپریشن کی تیاری میں کافی وقت لگا۔ ہم طویل عرصے سے اس طیارے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور مناسب موقع کے منتظر تھے۔ دشمن کا دعویٰ تھا کہ یہ طیارے ناقابلِ تباہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی دیگر طیاروں کی طرح آسمان سے گر سکتے ہیں۔" تاہم روسی کمانڈر نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا۔
یاد رہے کہ یوکرین کو سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران اگست 2024ء میں پہلی مرتبہ اپنے مغربی اتحادیوں کی جانب سے ایف 16 لڑاکا طیارے موصول ہوئے تھے۔ اس موقع پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ایف 16 طیاروں کی منتقلی کا عمل جاری ہے اور یہ طیارے ڈنمارک اور نیدرلینڈز سے یوکرین پہنچ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے بھی اس پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔ مئی 2025ء میں واشنگٹن نے یوکرین کو ایف 16 لڑاکا طیاروں، متعلقہ آلات اور اسپیئر پارٹس کی فروخت کے لیے 300 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مجموعی طور پر 87 ایف-16 لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا، جن میں سے اب تک 44 طیارے باضابطہ طور پر یوکرین کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔