مشرقی دہلی کے پارک میں سیاسی نگرانی، وائرل ویڈیو سے رازداری اور حقوق پر اُٹھے سوال
19
M.U.H
12/01/2026
مشرقی دہلی کے ایک پارک سے سامنے آئے ویڈیو نے مقامی سیاست، عوامی اخلاقیات اور شہری آزادی کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی کی خاتون کونسلر کی طرف سے رات میں کی گئی کارروائی سوشل میڈیا پر طوفان مچانے کے بعد اب سیاسی گلیاروں تک پہنچ گئی ہے۔ مشرقی دہلی کے کوہلی وارڈ سے بی جے پی کونسلر منیش ڈیڑھا ایک وائرل ویڈیو میں اپنے حامیوں کے ساتھ پارک میں سرگرم رول میں نطرآرہی ہیں۔ ویڈیو میں پولیس کی موجودگی نظرنہیں آ رہی ہے اور کونسلرخود ہی وہاں بیٹھے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے سوال اور جواب کرتی نظرآرہی ہیں۔
ویڈیو کے مطابق کونسلرایک بنچ پر بیٹھے جوڑے کے پاس پہنچتی ہیں اوران سے پوچھتی ہیں کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ وہ لڑکے سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہتی ہیں اور یہ جاننے کے بعد کہ دونوں اشوک نگر کے رہنے والے ہیں، ان کے وہاں ہونے پرسوال اٹھاتی ہیں۔
ویڈیومیں کونسلر کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے کہ اگر پارک میں کوئی قابل اعتراض حالت پائی گئی تو موقع پر ہی کارروائی کی جائے گی۔ جب لڑکے اور لڑکی خود کو 18 سال کا بتاتے ہیں تو اس پر بھی سخت تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد دیگر جوڑوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا تی نظر آرہی ہے۔ تنازعہ بڑھنے پر منیش ڈیڑھا نے کہا کہ وہ کسی اختلاقی پہتے داری کے ارادے سے نہیں بلکہ معائنہ کے لیے پارک گئی تھیں۔
کونسلر کے مطابق مقامی باشندوں نے شکایت کی تھی کہ پارک میں نشہ خوری ہوتی ہے اور رات گئے تک بھیڑ رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں روشنی کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کے خدشات تھے۔ کونسلر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارک میں موجود کچھ لڑکیاں رات گئے گھر سے باہر تھیں۔ انہوں نے ایک سرپرست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کئی دنوں سے لاپتہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کےساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عوامی مقامات پر ’مر یادہ‘ضروری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مشرقی دہلی میں اس طرح کا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ پچھلے مہینے پٹپر گنج علاقے میں ایک اور بی جے پی کونسلر کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں انہوں نے افریقی نژاد فٹ بال کوچ کو اس کی زبان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس نے ایک ماہ کے اندر ہندی نہیں سیکھی تو اس کے پارک میں داخل ہونے پر روک لگا دی جائے گی۔ ان واقعات نے نگرنگم سطح پرعوامی نمائندوں کے کردار کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ معاملہ اب سوشل میڈیا پر بڑی بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ کیا منتخب نمائندوں کو عوامی مقامات پر شہریوں کی ذاتی آزادی میں مداخلت کرنے کا حق ہے؟ جہاں ایک طرف کونسلرسیکورٹی اورعوامی شکایات کا حوالہ دیتی ہیں، وہیں دوسری طرف یہ ویڈیو اخلاقی پولیسنگ اور نوجوانوں کی رازداری کے حق پرسوال کھڑے کرتا ہے۔