نماز جمعہ اور بسنت پنچمی کے پیش نظر بھوج شالہ میں سیکورٹی سخت، 8000 جوان تعینات
12
M.U.H
22/01/2026
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع بھوج شالہ ایک بار پھر سیاسی اور مذہبی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ 23 جنوری کو بسنت پنچمی اور جمعہ کی نماز ایک ہی دن ہونے کی یہ جہ سے پرانا تنازعہ پھر تازہ ہوگیا ہے۔ ہندو تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بسنت پنچمی پر دن بھر سرسوتی پوجا کی اجازت دی جائے۔ دریں اثنا مسلم کمیونٹی نے نماز جمعہ کی روایت میں کسی قسم کی رکاوٹ کی مخالفت کی ہے اور موجودہ حالات جوں کے توں برقراررکھنے پر زور دے رہی ہے۔
ایک ہی دن دو الگ الگ مذہبی انعقاد سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پایا جارہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ موڈ پر ہے۔ سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ یہ تنازعہ برسوں سے تاریخ، عقیدے اور قانون کے درمیان الجھا ہوا ہے۔
دھار شہر میں واقع بھوج شالا ایک تاریخی ورثہ ہے جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے محفوظ یادگار قرار دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 11 ویں صدی میں پرمار حکمران راجہ بھوج کے دور میں یہ مقام علم اور تعلیم کا بڑا مرکز تھا جہاں دیوی سرسوتی کی پوجا کی جاتی تھی۔ اسی احاطے میں کمال مولیٰ مسجد ہے جس میں زمانۂ قدیم سے نماز ادا کی جارہی ہے۔
بھوج شالا تنازعہ اس کی مذہبی شناخت میں جڑا ہوا ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مقام اصل میں دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندر ہے جب کہ مسلم فریق اسے ایک تاریخی مسجد بتاتے ہوئے نماز ادا کرنے کے حق پر اصرار کرتا ہے۔ ایک ہی احاطے میں دو مذہبی دعوؤں کی وجہ سے اس معاملے پر کئی دہائیوں سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔ 2003 میں انتظامیہ نے ایک نظام قائم کیا تھا جس کے تحت ہندوؤں کو منگل کے روز پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز اداکرنے کی اجازت تھی۔
سال 2024 میں تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو بھوج شالا احاطے کا سائنسی سروے کرنے کی ہدایت دی۔ اس سروے کا مقصد اس مقام کی تاریخی اور تعمیراتی سچائی کو سامنے لانا تھا۔ اے ایس آئی کی ابتدائی رپورٹ میں مندر کے باقیات اور مجسمے کے نشانات ملنے کی بات کہی گئی ہے حالانکہ حتمی فیصلہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے سروے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ رپورٹ کی بنیاد پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
تنازعہ کے پیش نظر دھار شہر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ شہر میں 8000 سے زیادہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ بھوجشالہ احاطے کے ارد گرد نو فلائی زون کا اعلان کیا گیا ہے۔ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت اور موثر کارروائی کی جائے گی۔
ضلع انتظامیہ نے بسنت پنچمی پر بھوج شالا علاقے میں 300 میٹر کے دائرے میں نو فلائی زون کا اعلان کیا ہے۔ کسی بھی پرواز کی سرگرمی جیسے ڈرون، پیراگلائیڈنگ، گرم ہوا کے غبارے، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (یو اے وی) یا کسی بھی طرح کی اڑنے والی چیز پر پابندی رہے گی۔ اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں میونسپل کونسل کے ذریعے سخت کارروائی کی جائے گی۔