منریگا کے تحفظ تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، نیا قانون واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر جدوجہد ہوگی: ملکارجن کھڑگے
23
M.U.H
22/01/2026
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے منریگا سے متعلق حکومت کے اقدامات کو دیہی ہندوستان کے غریبوں، مزدوروں اور کمزور طبقات کے خلاف سنگین سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک منریگا کو اس کی اصل شکل میں بحال نہیں کیا جاتا اور نیا قانون واپس نہیں لیا جاتا، تب تک کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وہ دہلی کے جواہر بھون میں منعقد نیشنل منریگا ورکرز کنوینشن سے خطاب کر رہے تھے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ لڑائی وقتی احتجاج، نعرے بازی یا ایک دن کے مظاہرے کی نہیں بلکہ ایک طویل اور فیصلہ کن جدوجہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منریگا کو ختم کرنا یا اس کی جگہ نیا قانون نافذ کرنا دیہی غریبوں کو دوبارہ معاشی غلامی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منریگا صرف ایک روزگار اسکیم نہیں بلکہ باعزت زندگی، سماجی تحفظ اور گرام سوراج کے نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ سرمائی اجلاس کے دوران حکومت نے منریگا کو عملاً ختم کرنے والا نیا قانون متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب اس اسکیم کو نشانہ بنانا دراصل گاندھی کے نظریات اور دیہی خود مختاری کی سوچ پر حملہ ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی حکومت نے بابائے قوم کے نام پر قائم اسکیم سے ان کا نام مٹانے کی جسارت کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی جلد شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں اس مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ اٹھائے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر حکومت کو گھیرے گی۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس ملک بھر میں دیہی سطح پر منریگا کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک کی شکل دے رہی ہے تاکہ مزدوروں کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جا سکے۔
خطاب میں آدھار، ڈیجیٹل حاضری اور ادائیگی کے نظام پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ان طریقۂ کار کے ذریعے لاکھوں منریگا مزدوروں کے نام فہرستوں سے خارج کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث انہیں نہ کام مل رہا ہے اور نہ اجرت۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں نریندر مودی کی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی روزگار اسکیم کو بتدریج کمزور کیا ہے۔
کانگریس صدر نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منریگا سے پہلے غریب اور دلت طبقات کو باعزت روزگار میسر نہیں تھا اور انہیں شدید استحصال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کے مطابق منریگا نے پہلی بار غریب مزدور کو عزت، تحفظ اور قانونی حق دیا، جسے اب چھیننے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے واضح کیا کہ یہ لڑائی کسی ایک سیاسی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے منریگا مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں، خوف زدہ نہ ہوں اور اپنے حق کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھیں۔