واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست میں بڑا قدم اٹھایا ہے۔ آٹھ اہم مسلم ممالک نے بدھ (21 جنوری 2026) کو ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی غزہ جنگ کے بعد کے انتظامات اور عالمی تنازعات کے حل کو لے کر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے مسلم ممالک میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان تمام ممالک نے بورڈ میں اپنے اپنے نمائندے بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی حکم کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال کی نگرانی کرنا ہے۔
اس بورڈ کی مدت 2027 تک طے کی گئی ہے۔ اگرچہ اس وقت بورڈ کی توجہ غزہ پر مرکوز ہے، لیکن ڈونالڈ ٹرمپ اسے صرف اسی خطے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔ ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں اس پلیٹ فارم کو دنیا بھر کے بڑے تنازعات اور بحرانوں کے حل کا مرکز بنایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ان ممالک کو شامل کرنے پر زور دیا ہے جنہیں عالمی سیاست میں بااثر سمجھا جاتا ہے۔
اس بورڈ کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس کی صدارت تاحیات خود ڈونالڈ ٹرمپ کریں گے۔ مستقل رکن بننے کے لیے ہر ملک کو ایک ارب ڈالر کی رکنیت فیس ادا کرنا ہوگی۔ بورڈ کی سال میں محدود تعداد میں میٹنگز ہوں گی، جبکہ غزہ سے متعلق معاملات کے لیے الگ سے ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کو اس پہل سے جوڑنا ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اس بورڈ میں شامل ہونے کی اپیل کر رہے تھے۔ ریاض کی رضامندی کے بعد وائٹ ہاؤس اسے اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسی دوران ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق بورڈ میں صرف وہی لوگ شامل ہوں گے جن کے پاس حقیقی طاقت اور اثر و رسوخ ہو۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر اس میں کمزور یا غیر مؤثر افراد کو شامل کیا گیا تو کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ ٹرمپ کی اس پہل کو لے کر کئی مغربی ممالک میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ بعض سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے روایتی کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔
سلووینیا کے وزیر اعظم نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک اس بورڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور یہ اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بورڈ میں شامل آٹھوں مسلم ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے حق کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے حامی ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ یہ پہل مغربی ایشیا میں استحکام اور سلامتی کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، تقریباً 60 ممالک کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اسرائیل، مصر، ارجنٹینا، آذربائیجان، بحرین، بیلاروس، ہنگری، قازقستان، کوسووو، مراکش، متحدہ عرب امارات اور ویتنام پہلے ہی اس میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔
جبکہ سویڈن، ناروے اور اٹلی نے اس بورڈ سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ اسپین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس معاملے پر مشترکہ مؤقف طے کر رہے ہیں۔ اس پہل کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پوپ لیو کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ ویٹیکن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس پیشکش پر غور کیا جا رہا ہے اور مکمل جائزے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔