ایس آئی آر کے باعث ذہنی دباؤ نے 110 افراد کی جان لے لی: ممتا بنرجی
34
M.U.H
23/01/2026
کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ریاست میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی عمل (ایس آئی آر) کے سبب ذہنی دباؤ اور خوف کی وجہ سے اب تک کم از کم 110 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ یہاں 49ویں بین الاقوامی کولکاتا کتاب میلے کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا کہ اسی میلے میں ان کی ایک نئی کتاب بھی جاری کی جائے گی۔ یہ کتاب ایس آئی آر کی وجہ سے عوام کو جھیلنی پڑنے والی تکالیف پر مبنی 26 نظموں کا مجموعہ ہے۔
بنرجی نے کہا کہ بزرگوں سمیت سینکڑوں افراد کو سماعت کے لیے ایس آئی آر کیمپوں میں قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے اور انہیں روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے کھلے آسمان تلے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’منطقی تضادات کے نام پر وہ (الیکشن کمیشن) بنگالیوں کے القاب (سرنیم) پر سوال اٹھا رہے ہیں، جو برسوں سے معروف اور تسلیم شدہ ہیں۔‘
‘ انہوں نے کہا، ’’مجھے ممتا بنرجی اور ممتا بندیوپادھیائے، دونوں ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح چیٹر جی اور چٹوپادھیائے ایک ہی لقب ہیں۔ برطانوی دورِ حکومت میں ٹھاکر کو ٹیگور بھی کہا جانے لگا۔‘‘ بنرجی نے کہا کہ اگر رابندر ناتھ ٹیگور آج زندہ ہوتے تو شاید انہیں بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو یا اس سے زیادہ بچوں کے والدین سے بچوں کی عمروں کے درمیان وقفے کے بارے میں وضاحت طلب کی جا رہی ہے اور بزرگ شہریوں سے پیدائش کے سرٹیفکیٹ مانگے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہماری مائیں ہمیں درست تاریخِ پیدائش نہیں بتا سکتیں۔ یہاں تک کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ 25 دسمبر ان کی اصل تاریخِ پیدائش نہیں ہے۔ میرے پاس ثانوی (دسویں جماعت) کے بورڈ امتحان کے سرٹیفکیٹ موجود ہیں جن سے میری تاریخِ پیدائش ثابت ہوتی ہے، لیکن پرانی نسل کے بہت سے لوگوں کے پاس شاید یہ دستاویزات نہ ہوں۔ پھر انہیں کیوں پریشان کیا جا رہا ہے؟‘‘