ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف نے کیرالہ کو بنیادی سہولتوں اور بہتر انفراسٹرکچر سے محروم رکھا: وزیر اعظم مودی
31
M.U.H
23/01/2026
ترووننت پورم: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کیرالہ کی راجدھانی ترووننت پورم میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیں محاذ (ایل ڈی ایف) اور کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) نے دہائیوں تک کیرالہ کو بنیادی سہولتوں اور جدید انفراسٹرکچر سے محروم رکھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ریاست میں تبدیلی کی شروعات ہو چکی ہے اور عوام ایک نئے سیاسی متبادل کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ترقی، شفافیت اور خوشحال مستقبل کی ضمانت دے سکے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ترووننت پورم آنا ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہے، کیونکہ یہاں عوام اور پارٹی کارکنان کی محنت اب رنگ لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے میں جوش و خروش اور توانائی اس بات کا اشارہ ہے کہ کیرالہ کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مطابق، یہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کے لیے ایک نئی امید کی علامت ہے۔ اپنے سیاسی سفر کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے گجرات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1987 سے پہلے گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک چھوٹی اور محدود جماعت تھی۔ اس سال احمد آباد میونسپل کارپوریشن میں پارٹی کو پہلی کامیابی ملی، جس کے بعد عوام کا اعتماد بڑھتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گجرات میں ایک شہر سے شروعات ہوئی اور پھر پورے ریاست میں ترقی کا سفر آگے بڑھا، اسی طرح ترووننت پورم میں حالیہ کامیابی کیرالہ میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثر کی علامت ہے۔
وزیر اعظم نے ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں محاذوں نے برسوں تک اقتدار میں رہ کر عوام کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترووننت پورم جیسے اہم شہر کو بہتر سڑکوں، جدید شہری سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھا گیا۔ ان کے مطابق، بی جے پی کی ٹیم نے اب ایک ترقی یافتہ ترووننت پورم کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور شہر کو پورے ملک کے لیے ایک ماڈل بنانے کا عزم کیا ہے۔ آئندہ انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کیرالہ کی سیاست طویل عرصے سے دو ہی دھڑوں، ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ دونوں باری باری اقتدار میں آتے رہے، مگر ریاست کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور این ڈی اے ایک تیسرا متبادل ہیں، جو ترقی اور اچھی حکمرانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ دونوں محاذوں نے بدعنوانی، بدانتظامی اور خوشامدانہ سیاست کو فروغ دیا اور اگرچہ ان کے جھنڈے اور نشان الگ ہیں، مگر سوچ تقریباً ایک جیسی ہے۔
مرکزی حکومت کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کیرالہ کی ریاستی حکومت مرکز کی کئی فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کے نفاذ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے اگلے مرحلے کو نافذ کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے اور ہر گھر نل سے جل جیسی اسکیموں پر بھی عمل سست روی کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پی ایم شری یوجنا کے تحت بننے والے جدید اسکولوں تک غریب بچوں کی رسائی کو بھی روکا جا رہا ہے۔ ماہی گیروں کے لیے چلائی جانے والی اسکیموں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت کیرالہ کو تقریباً 1,400 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پہلی مرتبہ ماہی پروری کے لیے الگ وزارت قائم کی، تاکہ اس شعبے کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔ ان کے مطابق، اب ماہی گیروں کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی دی جا رہی ہے اور گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے کشتیوں کی جدید کاری میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بی جے پی بڑے پیمانے پر ڈھانچہ جاتی منصوبے شروع کر کے روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیرالہ کا پورا ریل نیٹ ورک اب مکمل طور پر بجلی سے چلنے والا ہو چکا ہے۔ ریاست میں پہلے ہی تین وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں اور حال ہی میں امرت بھارت ایکسپریس کا بھی آغاز کیا گیا ہے، جو عوام کو تیز، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کرے گی۔
مذہبی عقیدت کے معاملے پر وزیر اعظم نے بھگوان ایّپا اور سبری مالا مندر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے کروڑوں عقیدت مند بھگوان ایّپا میں گہری عقیدت رکھتے ہیں، مگر ایل ڈی ایف حکومت نے سبری مالا کی روایات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مندر سے سونے کی مبینہ چوری کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو ان معاملات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے گی اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ بدعنوانی کے مسئلے پر وزیر اعظم نے کہا کہ کیرالہ میں ترقی کو سب سے زیادہ نقصان کرپشن کی وجہ سے پہنچا ہے۔ انہوں نے کوآپریٹو بینک گھوٹالے کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس میں غریب اور متوسط طبقے کی محنت کی کمائی لوٹی گئی۔ وزیر اعظم نے وعدہ کیا کہ اگر عوام بی جے پی کو موقع دیتے ہیں تو لوٹے گئے ہر روپے کو واپس لایا جائے گا۔ آخر میں کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پارٹی کے پاس کوئی واضح ترقیاتی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس آج ایسی سیاست کر رہی ہے جسے ملک بھر میں مختلف ناموں سے پکارا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس کیرالہ کو اپنی سیاسی تجربہ گاہ بنا رہی ہے اور یہاں انتہا پسند عناصر کو بڑھاوا دے رہی ہے، جس سے ریاست کے امن اور ترقی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔