امریکہ عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر الگ ہو گیا
14
M.U.H
23/01/2026
امریکہ باضابطہ طور پر عالمی ادارہ صحت (WHO) سے الگ ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت اس کے ایک سال بعد سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے اپنی نئی مدتِ صدارت کے پہلے دن ایک ایگزیکیٹو آرڈر کے ذریعے ڈبلیو ایچ او سے نکلنے کی ہدایت دی تھی۔ امریکی قانون کے تحت کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے نکلنے کے لیے ایک سال کا پیشگی نوٹس دینا اور تمام بقایا واجبات ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ صدر ٹرمپ نے 22 جنوری 2025ء کو حکم نامہ جاری کیا تھا اس لیے ایک سال مکمل ہونے پر آج ڈبلیو ایچ سے امریکا کی علیحدگی ہو گئی۔ امریکا نے ایک سال قبل اطلاع دینے کا قانونی تقاضہ تو پورا کردیا لیکن اب تک واجبات کی ادائیگی نہیں کی جس کے باعث اس عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے 2024ء اور 2025ء کے واجبات ابھی تک ادا نہیں کیے جن کی مجموعی رقم تقریباً 26 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ کے مطابق، اب امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور "مبصر" بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکہ اب عالمی ادارہ صحت کے بجائے براہِ راست دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے اور بیماریوں کی نگرانی پر کام کرے گا۔