متحدہ عرب امارات : 900 سے زیادہ ہندوستانیوں کی رہائی کا اعلان
20
M.U.H
23/01/2026
نئی دہلی:متحدہ عرب امارات نے 900 سے زائد ہندوستانی شہریوں کی فہرست ابو ظہبی میں ہندوستانی سفارت خانے کے حوالے کر دی ہے۔ یہ شہری متحدہ عرب امارات کے نومبر کے حکم کے تحت رہا کیے جائیں گے۔
گزشتہ سال 27 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک سرکاری حکم میں بتایا تھا کہ عید الاتحاد سے قبل 2937 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔
عید الاتحاد متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہے۔ یہ ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1971 میں ریاستوں کے ایک پرچم تلے اتحاد کی یاد دلاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات کی اصلاحی جیلوں سے 2937 قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا۔ صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ قیدیوں پر عائد مالی جرمانے بھی حکومت ادا کرے گی۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی 54ویں عید الاتحاد کی تقریبات کے موقع پر کیا گیا۔ اس کا مقصد رہا ہونے والے قیدیوں کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دینا ہے۔ اس سے ان کے خاندانوں پر بوجھ کم ہوگا اور ان کے عزیزوں کو خوشی ملے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام صدر کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد استحکام سماجی ہم آہنگی اور بحالی کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط تعلقات قائم ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا۔ گزشتہ 10 برسوں میں یہ ان کا پانچواں دورہ تھا۔ بطور صدر یہ ان کا تیسرا سرکاری دورہ تھا۔
اس دورے کے دوران اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کے لیے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خطے میں امن سلامتی اور استحکام میں مشترکہ دلچسپی پر زور دیا۔ انہوں نے کثیر فریقی فورمز پر بہترین تعاون اور باہمی حمایت کا بھی ذکر کیا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 میں ہندوستان کی برکس چیئرمین شپ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا۔
ہندوستان کی جانب سے 2026 کی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ یہ کانفرنس 2026 کے آخر میں متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کا مقصد پائیدار ترقی کے ہدف 6 پر عمل درآمد کو تیز کرنا ہے۔ اس کے تحت سب کے لیے پانی اور صفائی کی دستیابی اور پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ بات وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہی۔