جنیوا: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایران اور امریکہ کے بالواسطہ ایٹمی مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اس دور میں سنجیدہ ترین اور طویل ترین گفتگو ہوئی۔
سید عباس عراقچی نے جمعرات 26 فروری کو ہونے والے بالواسطہ ایٹمی مذاکرات کے اختتام کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض شعبوں میں مفاہمت سے قریب ہوچکے ہیں جبکہ بعض معاملات میں بدستور اختلافات برقرار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فنّی ٹیمیں پیر کے روز سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں گی۔
سید عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کا یہ دور اب تک کا سنجیدہ ترین اور طویل ترین دور تھا۔
وزیر خارجہ نے آئی اے ای اے کے سربراہ کی موجودگی کو فنی موضوعات کے لحاظ سے مناسب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پہلے سے زیادہ سنجیدہ تھے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوگا۔
سید عباس عراقچی نے زور دیکر کہا کہ بات چیت کے دوران [ایران پر عائد] پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں واضح انداز اور الفاظ میں اپنے مطالبات پیش کیے۔
انہوں نے بتایا کہ دارالحکومتوں میں مشوروں کی ضرورت ہے اور اس کے بعد مذاکرات کا چوتھا دور آئندہ ہفتے منعقد ہوگا۔