مذاکرات کی کامیابی کا انحصار امریکی سنجیدگی پر ہے: سید عباس عراقچی
22
M.U.H
26/02/2026
امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کے لئے ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی"، "جنیوا" پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے اپنے عمانی ہم منصب "بدر البوسعیدی" سے ملاقات کی۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی سے منعقد ہو رہے ہیں۔ جس میں بدر البوسعیدی ایک ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مذکورہ ملاقات میں مجید تخت روانچی (سیاسی مشیر)، کاظم غریب آبادی (قانونی و بین الاقوامی امور کے مشیر)، اسماعیل بقائی (ترجمان دفتر خارجہ) اور علی بحرینی (جنیوا میں ایران کے سفیر و مستقل مندوب) موجود تھے۔ ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری امور اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی۔ اس کے علاوہ ایران کے نکات و تحفظات، عمانی وزیر خارجہ تک پہنچائے گئے۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے میں بدر البوسعیدی کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار، مقابل فریق کے سنجیدہ رویئے اور متضاد موقف سے گریز پر ہے۔
دوسری جانب عمانی وزیر خارجہ نے جوہری معاملے پر سفارتی نقطہ نظر کو جاری رکھنے پر ایران کی ثابت قدمی کو سراہا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مزید تعاون اور کسی بھی قسم کی سپورٹ کے لئے عمان کی مدد کا یقین دلایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کی باہمی سنجیدگی سے یہ مذاکرات، اطمینان بخش نتائج حاصل کریں گے۔ یاد رہے کہ سید عباس عراقچی اور ان کے عمانی ہم منصب کی ملاقات کے ساتھ ہی عملی طور پر مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات کا باقی عمل، ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان روابط کے ذریعے آگے بڑھے گا۔ واضح رہے کہ ان مذاکرات کا پہلا دور مسقط، جبکہ دوسرا دور جنیوا میں منعقد ہوا تھا۔ قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ نے جنیوا روانہ ہوتے ہوئے انڈیا ٹوڈے کو ایک انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ، متوازن اور عادلانہ معاہدہ حاصل کرنا ممکن ہے۔ ساتھ انہوں نے یہ یاد دہانی بھی کروائی کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی دراندازی سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔