وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے لیے دی دعوت
21
M.U.H
26/02/2026
تل ابیب: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اسرائیل دورے کے دوران اسرائیلی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری بڑھانے، مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی شراکت داری کو فروغ دینے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ جمعرات کو جاری سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت عالمی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے لیے ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈی بن چکا ہے اور اسرائیلی صنعتوں کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ مختلف جدید شعبوں پر مبنی ایک خصوصی ٹیکنالوجی نمائش کا دورہ کیا، جس میں اسرائیل کی نمایاں اختراعات اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں۔ نمائش میں ایگری ٹیک، واٹر ٹیک، کلائمیٹ ٹیک، ہیلتھ بایوٹیک، اسمارٹ موبیلٹی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبے شامل تھے۔
اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپ نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پیش کی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز بھارت اور اسرائیل کے درمیان انوویشن، اسٹارٹ اپ تعاون اور تجارتی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر زراعت، آبی وسائل کے انتظام، صحت خدمات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع امکانات پر زور دیا۔ دونوں ممالک اس وقت ’’انڈیا۔اسرائیل انوویشن برج‘‘ اقدام کے تحت جدید عالمی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ تحقیق اور تکنیکی ترقی پر کام کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے متعدد سائنس دانوں، ٹیکنالوجی ماہرین اور عالمی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران سے ملاقات بھی کی۔
نمائش کے دوران اسرائیلی کوانٹم کمپیوٹنگ سینٹر نے جدید کوانٹم مشینری سے متعلق معلومات فراہم کیں، جبکہ مختلف کمپنیوں نے کوانٹم سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کو آسان بنانے والی ٹیکنالوجیز پیش کیں۔ اے آئی پر مبنی پورٹیبل الٹراساؤنڈ نظام نے فوری طبی تشخیص کی جدید سہولتوں کا مظاہرہ کیا، جسے صحت کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اسرائیلی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ہورائزن اسکیننگ ڈویژن نے ’’ٹیک اسکاوٹ‘‘ نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام پیش کیا، جو اسٹریٹجک خطرات کی نشاندہی اور عالمی رجحانات کے تجزیے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید سینسر اور چپ ٹیکنالوجی کے ذریعے سڑک حادثات میں کمی لانے کے حل بھی پیش کیے گئے۔
پانی کے شعبے میں ہوا سے پینے کا پانی تیار کرنے والی ٹیکنالوجی اور بجلی کے بغیر مائیکرو آبپاشی نظام نے خصوصی توجہ حاصل کی، جبکہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے اور پلاسٹک کچرے کے انتظام سے متعلق ماحول دوست حل بھی پیش کیے گئے۔ نمائش میں خلائی اور مواصلاتی شعبے کی جدید پیش رفت بھی شامل رہی، جہاں چھوٹے مواصلاتی سیٹلائٹس اور جدید ریڈار ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تعاون دفاع، زراعت، صحت اور ڈیجیٹل معیشت سمیت کئی شعبوں میں بھارت کی ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی سرمایہ کاری کی یہ پیشکش بھارت اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی و تکنیکی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔