ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے، جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
10
M.U.H
25/02/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے، جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے، ایران کے میزائل یورپی ملکوں اور امریکی اڈوں کے لیے خطرہ ہیں، ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کر رہے ہیں، ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارت کاری سے حل ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسرے دورِ صدارت کا پہلا اسٹیٹ آف یونین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکی تاریخ میں امریکی سرحدیں محفوظ ترین ہیں، 9 ماہ میں ایک بھی غیر قانونی شخص امریکا میں داخل نہیں ہوسکا، ہم قانونی طور پر ہمیشہ لوگوں کو امریکا آنے کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں غیر معمولی کمی لائی گئی، 12 ماہ میں 18 کھرب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے وعدے ممکن بنائے ہیں، پہلے ہم مردہ ملک تھے اور اب سب سے زیادہ پسندیدہ ملک ہیں، وینزویلا سے 18 ملین بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے، میں نے تیل کی تلاش کرو اور اسے نکالو کا وعدہ پورا کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکا میں ڈی ای آئی ختم کر دیا ہے، اسٹیٹ آف یونین مضبوط ہے، امریکا اتنا کامیاب ہو رہا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم مزید کامیابیاں نہیں سمیٹ سکتے، واشنگٹن ڈی سی کی طرح لاس اینجلس کو بھی محفوظ شہر بنائیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ پچھلے سال میں نے کانگریس سے کہا کہ ٹیکس کٹوتی کریں اور ری پبلکنز نے یہ ممکن بنایا، ٹیکس کٹوتی پر ہر ڈیموکریٹ نے مخالفت میں ووٹ دیا، وہ ٹیکس میں اضافہ چاہتے تھے، ہم نے ٹپ پر ٹیکس ہٹایا اور اوور ٹائم پر ٹیکس ختم کیا، جو ممالک ہمیں لوٹ رہے تھے، وہ اب ادائیگیاں کر رہے ہیں، ٹیرف کے باوجود تمام ممالک امریکا سے ڈیلز برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے کئی جنگیں ٹیرف کی مدد سے ختم کیں، ٹیرف آج کے دور کے انکم ٹیکس کی جگہ لے لے گا، بائیڈن دور میں ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
امریکی صدر نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم نامے پر تنقید کی اور کہا کہ ملک میں انڈوں کی قیمتیں 60 فیصد کم ہوئی ہیں، بڑی انشورنس کمپنیوں کی بجائے رقم لوگوں کو دینا چاہتا ہوں، تاکہ وہ اپنی ہیلتھ کیئر خود لیں، ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی لا رہا ہوں، جس میں دیگر صدور ناکام رہے تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کے دوران الہان عمر اور رشیدہ طلیب پر تنقید بھری جملے بازی کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ شرم آنی چاہیئے، جو رکنِ کانگریس غیر قانونی امیگرینٹس کو نکالنے کی راہ میں حائل ہیں، سیو امریکا ایکٹ کی حمایت کی جائے، ہم غیر قانونی امیگرینٹس کو نکال رہے ہیں، نہیں چاہتے کہ وہ امریکا میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے ہوم لینڈ سکیورٹی کا تمام بجٹ کاٹ دیا، ہوم لینڈ سکیورٹی کی تمام فنڈنگ بحال کی جائے، اراکینِ کانگریس کا پہلا فرض ہے کہ غیر قانونی امیگرینٹس کو سپورٹ نہ کریں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تمام ووٹرز کو شہریت کا ثبوت دینا چاہیئے، سوائے بیماری اور ملٹری ڈیوٹی کے استثنیٰ کے میل ان بیلٹس نہیں ہونا چاہیئے، ڈیمو کریٹس ووٹر آئی ڈی اس لیے نہیں چاہتے کیونکہ وہ الیکشن میں چیٹنگ چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران اکثر ڈیموکریٹ اراکین کے چہرے بجھے ہوئے تھے۔ اپنے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے خود پر تنقید کرنے والے ڈیموکریٹس کو پاگل کہہ دیا اور کہا کہ ہر قسم کے سیاسی تشدد کو مسترد کرنا چاہیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم مذہب سے محبت کرتے ہیں اور یہ معاشرے میں تیزی سے واپس آرہا ہے، کانگریس قانون منظور کرے کہ بارہا پُرتشدد واقعات میں ملوث مجرم جیل سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دہشت گرد نے وائٹ ہاؤس کے باہر خاتون اہلکار کو گولی ماری، افغانستان کے دہشت گرد کو امریکا میں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے 8 جنگیں ختم کیں، کمبوڈیا تھائی لینڈ جنگ رکوائی، پاکستان اور بھارت کے درمیان نیوکلیئر جنگ رکوائی، وزیراعظم پاکستان نے میرے لیے کہا کہ میں نے 35 ملین لوگوں کی جان بچائی، اسرائیل اور ایران کی جنگ رکوائی، کانگو اور روانڈا کی جنگ بھی رکوائی، غزہ کی جنگ بھی میں نے ہی رکوائی ہے۔ اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹیک کمپنیاں اپنے پاور پلانٹ بنائیں، تاکہ بجلی کی قیمتیں عوام کے لیے کم ہوں، کانگریس سے کہتا ہوں کہ سنگل فیملی کے گھروں کو تحفظ دیں، میں سوشل سکیورٹی اور میڈی کیئر کو تحفظ دوں گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ نینسی پلوسی میری بات پر کھڑی ہو جائیں، مجھے یقین نہیں آرہا، کانگریس سے کہتا ہوں کہ کمرشل ڈرائیونگ لائسنس غیر قانونی شہریوں کو نہ دیں۔
تقریر کے دوران امریکی رکنِ کانگریس آل گرین نے صدر ٹرمپ کے سامنے بینر لہرانے کی کوشش کی، جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اور اراکینِ کانگریس عمارت میں موجود تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اہلِ خانہ بھی کانگریس کی عمارت میں موجود تھے۔