کیرالہ ہائی کورٹ نے دی کیرالہ سٹوری 2 کی ریلیز پر روک لگائی
22
M.U.H
26/02/2026
کیرالہ :وپل امرت لال شاہ کی پروڈکشن میں بنی فلم دی کیرالہ اسٹوری 2 کی ریلیز اس وقت قانونی پیچیدگیوں میں پھنس گئی ہے۔ فلم پر ریاست کیرالہ کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگے ہیں، جس کے باعث معاملہ کیرالہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ یہ فلم 27 فروری کو ریلیز ہونے والی تھی، جو اب ممکن نہیں ہو سکے گی۔ بدھ کے روز عدالت میں سماعت کے دوران فیصلہ جمعرات کی سماعت تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب عدالت نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ جب تک عدالت حتمی فیصلہ نہیں دے دیتی، تب تک فلم کے حقوق جاری نہ کیے جائیں۔
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عرضی گزار کی تشویشات “مکمل طور پر بے بنیاد نہیں” ہو سکتیں، اسی لیے احتیاطی قدم کے طور پر فلم کی ریلیز پر عارضی پابندی لگانا ضروری ہے۔
دلچسپ موڑ یہ ہے کہ اسی دوران مرکزی حکومت نے فلم کے حق میں اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے سنسر بورڈ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم سے ‘پبلک آرڈر’ کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ریاست کو منفی انداز میں پیش کرتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تخلیقی اظہار کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کو اپنی کہانی بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔
بدھ کو سماعت مؤخر کی گئی تھی
قابلِ ذکر ہے کہ ان عرضیوں پر پہلے 25 فروری کو سماعت ہوئی تھی، لیکن فلم سازوں اور عدالت کے درمیان ہم آہنگی قائم نہ ہو سکی۔ بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق، صبح کی سماعت میں عدالت نے فلم دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ جج نے کہا کہ جب فلم ساز فلم کو سچی کہانی پر مبنی بتا رہے ہیں اور ریاست کے نام کا استعمال کر رہے ہیں، تو عدالت کے لیے مواد دیکھنا ضروری ہے۔ اس وقت فلم سازوں کی جانب سے اسکریننگ پر رضامندی ظاہر کی گئی، لیکن بعد میں انہوں نے انکار کر دیا۔
دوپہر میں جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو فلم سازوں کے وکیل نے پہلے یہ طے کرنے کی درخواست کی کہ عرضی ذاتی نوعیت کی ہے یا عوامی مفاد سے متعلق۔ اس پر جسٹس تھامس نے تبصرہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ فلم ساز عدالت کو فلم دکھانے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ فلم سازوں نے اپنی وضاحت پیش کی اور عرضیوں کی مخالفت بھی کی۔ کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ پانے کے باعث سماعت آج کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔ اب دی كیرالہ اسٹوری فلم کی ریلیز پر عدالت کی اگلی سماعت کا انتظار کیا جائے گا۔