اسرائیل کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازے جانے پر وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’یہ بھارت۔اسرائیل دوستی کے نام‘‘
22
M.U.H
26/02/2026
یروشلم: وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران وہاں کے اعلیٰ ترین پارلیمانی اعزاز ’’اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل‘‘ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے اس اعزاز کو ذاتی کامیابی قرار دینے کے بجائے بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نام منسوب کیا۔ یہ اعزاز وزیر اعظم مودی کو دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ تقریب اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں منعقد ہوئی، جہاں اعلیٰ حکام اور ارکان پارلیمنٹ کی موجودگی میں انہیں اس اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں کنیسٹ میڈل حاصل کر کے بے حد فخر محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اس اعزاز کو عاجزی اور تشکر کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور یہ کسی ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان گہری دوستی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق یہ اعزاز دونوں ممالک کی مشترکہ اقدار اور مستقبل کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی اس موقع پر وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو ’’اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل‘‘ سے نوازا جانا انتہائی اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز بھارت۔اسرائیل شراکت داری کو مضبوط بنانے میں وزیر اعظم مودی کے کلیدی کردار اور تعلقات کو آگے بڑھانے کے ان کے پختہ عزم کا عالمی اعتراف ہے۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی قیادت اور پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ تشکیل دیا گیا ہے اور اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ کو بھارت کے دورے کی دعوت بھی دی۔ خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت گزشتہ چند برسوں سے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور جلد ہی عالمی سطح پر تین بڑی معیشتوں میں جگہ بنانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے بھارت اور اسرائیل کو قدیم تہذیبوں کا وارث قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں معاشروں کی فکری روایات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ مودی نے اسرائیل کے ’’ٹکون اولم‘‘ کے نظریے اور بھارت کے فلسفہ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نظریات پوری دنیا کو ایک خاندان تصور کرتے ہیں اور عالمی ذمہ داری کے احساس کو سرحدوں سے آگے لے جاتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ اعزاز نہ صرف وزیر اعظم مودی کی سفارتی کامیابی بلکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہے، جو مستقبل میں اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بنیاد فراہم کرے گا۔