رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر لکھنؤ سراپا احتجاج ،تین دن کے سوگ کااعلان ،امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری
6
M.U.H
01/03/2026
لکھنؤیکم مارچ: رہبر انقلاب اسلامی ،ولی فقیہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد لکھنؤ کے مسلمانوں میں غم وغصے کا ماحول دیکھاگیا۔ہر طرف امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی ہوتی رہی اور لوگ سڑکوں پر نکل کر امریکی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے نظرآئے ۔لکھنؤ کی سڑکوں پر شیعوں اور سنیوں نے مشترکہ احتجاج کیااور کہیں الگ الگ مظاہرے کرتے ہوئے نظر آئے ۔سب کی زبانوں پر’ آیت اللہ خامنہ ای زندہ باد‘،تم کتنے حسینی ماروگے ہر گھر سے حسینی نکلے گا،ہم ایران کی قیادت اور عوام کےساتھ ہیں ،جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘نیز امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے تھے ۔شیعوں اور سنیوں نے الگ الگ مقامات پر ڈونالڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے پتلے اور امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذرآتش کئے ۔مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے علیٰ الصباح ایک تعزیتی بیان جاری کرکے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔انہوں نے اپیل کی کہ لوگ اپنے گھروں پر سیاہ پرچم نصب کریں اور تین دن تک کاروبار کو بند رکھاجائے ۔ان کی اپیل کا اثر لکھنؤ کے محلوں اور بازاروں میں صاف نظر آیا۔حتیٰ کہ اہل سنت کے بازاروں میں بھی سناٹاپسرارہا۔خاص طورپر لکھنؤ کا مشہور بازار نخاس اتوار کے باوجود بند رہا۔چھوٹے امام باڑے کے اطراف وجوانب کی تمام دوکانیں بند رہیں۔
احتجاجات کا سلسلہ تو یکم مارچ کی صبح آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے نشر ہونے کے فوراًبعد شروع ہوگیاتھا۔خاص طورپر نوجوانوں میں کافی غم وغصہ دیکھاگیا۔مسلمانوں نے اپنے اپنے محلوں میں کثیر تعداد میں جمع ہوکر ایران کی حمایت اور دہشت گرد امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگانا شروع کردئیے تھے ۔اس کے بعد پہلا اجتماع چھوٹے امام باڑے پر ہواجس میں نوجوان شامل تھے جو آیت اللہ خامنہ ای کی تصویروں کےساتھ نعرے لگاتے ہوئے بڑے امام باڑے تک گئے ۔اس کے بعد دن میں ۳ بجے چھوٹے امام باڑے پر علماء کی موجودگی میں اجتماع ہواجس میں جم کر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی ہوئی ۔اس موقع پر مجلس بھی منعقد ہوئی ۔جلسے کومولانا محمد میاں عابدی، مولانا سعیدالحسن ،مولانا حیدر عباس ،اور دیگر علمانے خطاب کیا۔یہ احتجاج بھی بڑے امام تک جاکر اختتام پذیر ہوا۔مظاہرین میں اتنا غم وغصہ تھاکہ دہاڑے مارکر مردوزن رورہے تھے اور امریکی و اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف نعرے لگارہے تھے ۔
اس کے بعد شب میں ٹھیک ۸ بجے مولانا کلب جوادنقوی کی کال پر لکھنؤ کے تاریخی چھوٹے امام باڑے پر تاریخی احتجاج ہواجس میں ڈاکٹر یعسوب عباس اور بڑی تعداد میں علماء موجود تھے ۔احتجاج کو خطاب کرتے ہوئے مولاناکلب جوادنقوی نے کہاکہ ہم شہادتوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں ۔شہادتیں ہمیں مزید مضبوط کرتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دشمن نے بزدلی اور دھوکےسے آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کیاہے ۔مگر دنیا یاد رکھے شہید کاخون رائیگاں نہیں جاتا۔انہوں نےکہاکہ میڈیا مسلسل کہہ رہاتھاکہ آیت اللہ خامنہ بنکر میں چھپے ہوئے ہیں مگر میڈیا کو اس وقت شرمناک رسوائی کا سامناہواجب معلوم ہواکہ وہ شہادت کے وقت بھی اپنے دفتر میں تھے ۔دنیا سمجھ لے کہ حسینی نہ جھکتے ہیں اور نہ چھپتے ہیں ۔مولانانے مسلم حکمرانوں کی منافقت کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ حکومتیں یہودی ہیں انہیں مسلمان نہ کہاجائے ۔انہوں نے کہاکہ آج تک کسی نام نہاد مسلم حکومت نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت نہیں کی ۔ان کی فریاد پر لبیک نہیں کہا۔تنہا ایران ہے جو فلسطین کی حمایت اور مظلوموں کی آواز بن کر کھڑارہا،اس حمایت کانتیجہ ہے جو آج ایران پر جنگ تھوپی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دو دہشت گرد طاقتیں ہیں جنہوں نے دنیا کا امن برباد کردیاہے ۔آخر انہیں کیاحق پہونچتاہے کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت کریں ۔مولانانے کہاکہ رہبر معظم نے ہمیشہ اتحاد کی دعوت دی ان کی تحریک کااثر ان کی شہادت کے بعد زیادہ نمایاں نظر آرہاہے ۔ہر طرف شیعہ اور سنّی سڑکوں پر نکل کر ان کی حمایت میں احتجاج کررہے ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہندوستان کے تمام مسلمان ایران کے ساتھ ہیں ۔ہم ہرگز ایران کی قیادت اورعوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔مولانانے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل تاریخ کو ہرگز فراموش نہ کریں ،جیت ہمیشہ موسیٰ کی ہوئی ہے فرعون کی نہیں ۔آج بھی موسیٰ کو فتح حاصل ہوگی اور فرعون مع اپنے جنگی بیڑوں کے سمندر میں غرق ہوگا۔
ڈاکٹر یعسوب عباس نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلم حکومتوں کے نفاق نے ایران کو جنگ میں مبتلاکیاہے ۔انہوں نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای علیؑ کے شیر تھے جو نہ کبھی چھپے اور نہ کبھی جھکے ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل جیسی ظالم طاقتیں کبھی ایران کو جھکانہیں سکیں اور نہ آئندہ جھکاپائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ ایران کبھی ختم نہیں ہوں گا یہ دشمن کی غلط فہمی ہے ۔انہوں نے مسلم حکومتوں کی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کل امام حسینؑ کے قتل کے حکم پر مسلم ملّائوں کی مہریں تھیں ،اسی طرح آج ایران پر حملے اور آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے حکم پر مسلم حکمرانوں کی مہریں لگی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسے احتجاج منعقد ہونے چاہئیں جو تاریخ یاد رکھے کیونکہ یہ شہادت اس صدی کی سب سے بڑی شہادت ہے ۔
ڈاکٹر کلب سبطین نوری نے کہاکہ ہم نے اپنی طاقت ورقیادت کو کھودیاہے مگر ہم کمزور نہیں ہیں ۔شہادت ہماری میراث ہے ۔ہمیں جب بھی شہید کیاگیاہم مزید توانائی کےساتھ ابھرے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آج شیعوں اور سنیوں کا ایک ساتھ احتجاجوں میں شامل ہونایہ بتلارہاہے کہ دشمن ہارچکاہے ۔مولانارضاحسین رضوی نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت مظلومانہ ہے ۔ان کی شہادت یقیناًرنگ لائے گی ۔دنیا نےایساجیالا لیڈر اس صدی میں نہیں دیکھا۔مولانا تسنیم مہدی نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای کوشہید کرنا دشمن کی نفسیاتی بوکھلاہٹ اور واضح شکست کی علامت ہے ۔ہم ایران کے ساتھ ہیں اور دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔
مولانا علی عباس خان نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای شخص نہیں شخصیت تھے ۔شخص کو قتل کیاجاسکتاہے شخصیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہادت ہمارے لئے سعادت ہے ۔انہوں نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت امت مسلمہ کے لئے ناقابل برداشت درد ہے ۔دشمن جسم کو قتل کرسکتاہے مگر فکر کو قتل نہیں کرسکتا۔ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فضل منان واعظی نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای تو شہید ہوگئے مگر وہ ہمیں نئی زندگی دے گئے ۔ان کا پیغام اتحاد تھاجس پر ہمیں گامزن ہوناہے ۔دشمن کو شکست دیناہے تو متحد ہوکر دیجیے ۔مولانانے کہاکہ ایران کا دشمن بزدل ہے ۔اس کی تقدیر میں مٹ جاناہے اور یقیناً وہ مٹ کررہے گا۔
تقریروں کے بعد مظاہرین علماء کی رہنمائی میں احتجاج کرتے ہوئے ،ہاتھوں میں شمعیں اور رہبر معظم کی تصویریں لئے ہوئے بڑے امام باڑے کی طرف روانہ ہوئے ۔راستے میں کئی مقامات پر نتن یاہو اور ٹرمپ کے پتلے جلائے گئے ۔بڑے امام باڑے پر پہونچ کر مولانا محمد میاں عابدی،مولانافرید الحسن اور مولانا عباس ناصر سعید نے مظاہرین کو خطاب کیا اور مصائب کربلا بیان کئے ۔اس کے بعد مظاہرین امام باڑے میں داخل ہوئے جہاں مولاناکلب جوادنقوی ،مولانا علی عباس خان اور دیگر علماءموجود تھے جنہوں نے مصائب کربلا بیان کرکے مظاہرین کے غم کو ہلکاکرنے کی کوشش کی ۔انجمن ہائی ماتمی نے بڑے امام باڑے میں سیاہ پرچموں کو رکھا اور علم بڑھاکر احتجاج کوختم کیاگیا۔
احتجاج میں مولانا نثار احمد زین پوری،مولانا تسنیم مہدی،مولانا جعفر عباس ،مولانا محمد ابراہیم ،مولانا شمس الحسن ،مولانا عقیل عباس معروفی ،مولانا فریدالحسن ،مولانا عباس ناصرسعید عبقاتی ،مولاناگلریز مہدی ،مولاناابوالفضل عابدی،مولانا نظر عباس،مولانا غضنفر نواب ،مولانا محمد علی ،مولانا شباہت حسین ،مولانازوار حسین،مولانا سلیم عباس زیدی،مولانا شاہد الحسینی ،مولانا مکاتیب علی خان،شررؔ نقوی ،مولانا علی ہاشم عابدی ،مولانا عادل فراز نقوی اوردیگر علماء بڑی تعداد میں موجود رہے ۔مظاہرے میں شیعہ وسنی مردوخواتین نے شریک ہوکر اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔