’سنجیدگی سے بات چیت نہ کی تو واپسی کا راستہ نہیں بچے گا‘، ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
8
M.U.H
26/03/2026
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے فوری سنجیدگی دکھائے، بصورت دیگر حالات ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سمجھوتے سے متعلق متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایرانی نمائندے غیر معمولی اور عجیب طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ سے معاہدہ کرنے کے لیے بار بار رابطہ کر رہا ہے اور گویا درخواستیں کر رہا ہے، کیونکہ وہ عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس دوبارہ ابھرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایران ایک طرف پس پردہ رابطے کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر مختلف موقف اختیار کر رہا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے فوری طور پر سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا تو نتائج اس کے لیے بہتر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور فیصلہ کن مرحلہ قریب ہے، اس لیے تہران کو تاخیر کے بجائے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔
دوسری طرف ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی براہ راست مذاکرات میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ عمل جاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ امریکہ کی طرف سے بعض پیغامات دیگر ممالک کے ذریعے ضرور پہنچائے گئے، لیکن انہیں مذاکرات یا باقاعدہ گفت و شنید قرار نہیں دیا جا سکتا۔