مسلمانوں کے تمام فرقوں کو جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے آواز اٹھانی چاہیے:مولاناکلب جوادنقوی
5
M.U.H
27/03/2026
جنت البقیع کے انہدام کے خلاف اور مزارات کی تعمیر نو کے لئے آصفی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج ،محمد بن سلمان کی تصویر نذرآتش
لکھنؤ ۲۷ مارچ: جنت البقیع کے انہدام کے خلاف اور مزارات مقدسہ کی تعمیر نو کے لئے آج نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد میں سعودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا۔احتجاج کی رہنمائی امام جمعہ مولاناکلب جوادنقوی نے کی ۔نمازیوں نے احتجاج میں جنت البقیع کے انہدام پر سعودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مزارات کی تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے آل سعود کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے اور سعودی فرماںروا محمد بن سلمان کی تصویر کو نذرآتش کرکے اپنے غم و غصہ کااظہارکیا۔اس موقع پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بھی نعرے لگے اور مسلم حکمرانوں کو ان طاقتوں کا غلام قراردیاگیا۔
مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے کہاکہ انہدام جنت البقیع کو سو سال مکمل ہوچکے ہیں مگر افسوس اب تک مقدس مزارات کی تعمیر نو نہیں ہوسکی ۔انہوں نے کہاکہجنت البقیع کے لئے مسلمانوں کے تمام فرقوں کو آگے آناچاہیے مگرافسوس ان کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں ہوتا۔جنت البقیع میں پیغمبر اسلا مؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ؑ ،پیغمبراسلامؐ کی ازواج مطہراتؓ اور اصحاب کرامؓ کی قبریں ہیں ،اس کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے ان کی قبروں کے انہدام پر خاموشی ہے ،اس سے زیادہ مسلمانوں کی بے غیرتی اور کیاہوگی ۔انہوں نے کہاکہ مسلمان مولوی تو سعودی عرب اور امریکہ کے زرخرید ہیں اس لئے وہ کبھی سعودی عرب کے جرائم کے خلاف زبان نہیں کھول سکتے ۔آج امریکہ اور اسرائیل ایران پر مسلمان ملکوں کی حمایت سے حملے کررہے ہیں مگر مسلمان مولویوں نے ان کی مذمت تک نہیں کی ۔حتیٰ کہ انہوں نے مناب شہر میں امریکی حملے میں شہید ہونے والی معصوم بچیوں کی شہادت پر بھی کوئی احتجاج نہیں کیا،اس سے انکی ذہنی غلامی اور پسماندگی کا اندازہ ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کی شکست کے ساتھ ہی مسلمان حکومتیں ختم ہوجائیں گی اوروہاں بھی عوام کی آزاد حکومتیں قائم ہوں گی ۔
مولانانے آگے کہاکہ معلوم ہوناچاہیے کہ آخر یہ مسلم حکمران ایران پر حملےکے خلاف خاموش کیوں ہیں۔مسلمانوں پر ظلم ہوتے ہیںمگر مسلم حکومتیں مذمت تک نہیں کرتیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکمران یہودی مائوں کے بیٹے ہیں ،ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ غزہ میں ہزاروں معصوم بچے ،عورتیں اور نوجوان قتل کردئیے گئے ،غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیاگیامگر مسلم حکمران خاموش رہے ،اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ حکمران یہودی مائوں کے بیٹے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو شکست ہوگئی تو سعودی عرب ،قطر ،اردان اور دیگر مسلم ملکوں میں عوامی انقلاب رونما ہوں گے اور اقتدار میں تبدیلی آئے گی ۔انہوں نے کہاکہ مسلم ملکوں کے عوام اب بیدار ہورہے ہیں لیکن وہاں کی حکومتیں امریکہ اور اسرائیل کی غلام ہیں ۔غلاموں سے ہم کبھی یہ توقع نہیں کرسکتے کہ وہ ایران کی حمایت اور جنت البقیع کی تعمیر نو کے لئے عملی اقدامات کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہمار امطالبہ یہ ہے کہ سعودی سرکار مقدس مزارات کی تعمیر نو کرے یا ہمیں تعمیر نو کی اجازت دی جائے ۔
مولانانے ایران کی جانب سے ہندوستان کے لئے آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہندوستان کے عوام کی جیت ہے ،اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ۔حکومت تو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہے ۔چونکہ ہندوستان کے عوام ایران کی حمایت کررہے ہیں اس لئے ایران نے عوام کی حمایت کی بناپر آبنائے ہرمز کو ہندوستان کے لئے کھول دیا۔انہوں نے کہاکہ آج ہندو،مسلمان باہم ایران کی مدد کررہے ہیں ،اس کے شواہد موجودہیں ۔ہندو ،سکھ اور دیگر مذاہب کے افراد نے ایران کی کھل کر حمایت کی ہے ۔آبنائے ہرمز کا کھلناہندوستان کے عوام کی جیت ہے حکومت کی نہیں۔
مولانا قربان علی نے کہاکہ سعودی سرکارکو جنت البقیع یں مقدس مزارات کی اجازت دینی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ایسی حکومتیں جو ایران پر حملے میں شریک ہوں وہ مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔مولانا غلام رضا رضوی نے کہاکہ عالم اسلام کو جتنا نقصان نام نہاد مسلمان حکومتوں نے پہنچایاکسی دوسری حکومت نے نہیںپہنچایا۔مسلم حکمرانوں کے خلاف اب ان ملکوں کے عوام بیدار ہورہے ہیں اور جلد ہی وہاں انقلاب رونما ہوگا۔انہوں نے کہاکہ جنت البقیع میں جو مقدس قبریں ہیں ان سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتیں وابستہ ہیں ،اس لئے ہم تعمیر نو کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مظاہرے میں مولاناکلب جوادنقوی ،مولانا قربان علی ،مولانا اصطفیٰ رضا،مولانا غلام رضا رضوی ،مولانا فیروز حسین ،مولانا سرتاج حیدر زیدی ،مولانا نظر عباس اور مولانا عادل فراز موجود رہے ۔