ہم ایران کے خلاف امریکی و صیہونی حملوں کا حصہ نہیں: آسٹریلیا
21
M.U.H
10/04/2026
آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم و وزیر دفاع "رچرڈ مارلز" نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے عالمی اقتصاد پر بُرے اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا حصہ نہیں۔ لیکن ہم خلیج فارس ممالک کے ساتھ دفاعی و اسٹریٹجک معاہدوں کا حصہ ہیں۔ اسی لئے ہم ہمیشہ نیٹو کے متعدد ممالک سمیت دنیا بھر میں اپنے دوستوں اور ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ رچرڈ مارلز نے ان خیالات کا اظہار اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کو ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ پیش آئی جس سے عالمی اقتصاد بُری طرح متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہئے کیونکہ ہم انڈو پیسیفک خطے میں ہیں، جہاں ہمارے لئے استعمال ہونے والے ایندھن کی ایک قابل ذکر مقدار آبنائے ہرمز سے آتی ہے۔
یاد رہے کہ اپنے اہداف میں ناکامی کے 40 روز بعد امریکہ نے ایران کی شرائط کو قبول کرتے ہوئے 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ دریں اثناء یورپی ممالک نے جنگ بندی كے اس اعلان كا خیر مقدم كیا۔ كیونكہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے ہی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کا عمومی مؤقف اختیار کیا تھا۔ یورپی ممالک شروع سے ہی پائیدار امن کے حصول کی ضرورت پر زور دیتے آئے ہیں۔ مگر ان کا طرز عمل ہمیشہ سے منافقانہ ہے۔ ان کے اسی رویے کی بدولت خطہ آج اس نہج تک پہنچا ہوا ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی واضح کیا کہ صرف اُسی وقت تصادم کا خاتمہ ہو گا جب جارحیت مکمل طور پر بند ہو گی اور مخالف فریق اپنی دشمنانہ کارروائیوں کی تکرار سے باز آ جائے گا۔ بصورت دیگر ایران کو اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے، جس کے تحت وہ جارحین کو ہر صورت جواب دے گا۔