مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابات کے دوران پارلیمنٹ میں ڈی-لمیٹیشن بل پیش کیا جا رہا ہے، جس پر کسی بھی سطح پر مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 16، 17 اور 18 اپریل کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، لیکن اس دوران ڈیلمیٹیشن جیسے اہم معاملے کو بغیر بحث کے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی کے مطابق اس اقدام کے پیچھے اصل مقصد بنگال کو تقسیم کرنا اور یہاں این آر سی نافذ کرنا ہے۔
ایس آئی آر پر سنگین الزامات اور انتخابی شفافیت پر سوال
ممتا بنرجی نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو ایک ’’بڑا گھوٹالہ‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 90 لاکھ نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں، جو دراصل بی جے پی کو اقتدار میں لانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بی جے پی اقتدار میں رہے گی، آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد ایسے عناصر کے خلاف ہے جو جمہوری عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔
مودی حکومت اور دیگر پالیسیوں پر تنقید
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انتخابات کے دوران مغربی بنگال کا رخ کرتے ہیں، جبکہ قدرتی آفات یا سیلاب کے وقت نظر نہیں آتے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ’’موسمی پرندے‘‘ (Seasonal Bird) کی طرح صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی کے منشور میں شامل یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code) کی بھی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اگر یہ بل پاس کیا گیا تو وہ اسے مسترد کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں قبائلیوں پر مظالم ہو رہے ہیں اور بنگالی بولنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ راجستھان، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں ایسے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف بھوانی پور اسمبلی حلقے سے نامزدگی منسوخ کرانے کے لیے جھوٹے حلف نامے داخل کیے گئے اور کہا کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔