ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج رات لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے لبنانی عوام اور مزاحمتی جنگجوؤں کی افسانوی استقامت کو خراج تحسین پیش کیا ہے، اور پاکستان کی کوششوں خصوصاً گزشتہ 24 گھنٹوں میں کی جانے والی سفارتی کاوشوں کو سراہا ہے جن کے نتیجے میں 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان ممکن ہوا۔ فارس نیوز کے مطابق، ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا رک جانا ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ابتدا ہی سے اسلام آباد مذاکرات سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی گفتگوؤں میں اس بات پر زور دیتا رہا کہ پورے خطے میں، بشمول لبنان، بیک وقت جنگ بندی ضروری ہے، اور ایران نے مذاکرات کے بعد بھی اس مؤقف کو سنجیدگی سے جاری رکھا۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور قبضے کے خلاف عوام اور مزاحمتی قوتوں کی استقامت کو سراہا، اور پاکستان کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان میں اہم کردار ادا کیا۔
ترجمان نے لبنانی شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل طور پر انخلا کرے، تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے، بے گھر افراد کو واپس ان کے علاقوں میں بھیجا جائے، اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو بین الاقوامی تعاون سے کی جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی آج رات سے نافذ العمل ہوگی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے لبنان کے عوام، خصوصاً جنوبی علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے وہ فوری طور پر تباہ شدہ علاقوں کی طرف نہ جائیں اور صورتحال واضح ہونے تک انتظار کریں۔