لبنان میں جنگ بندی ایران کے دباؤ سے حاصل ہوئی: حزب اللہ
36
M.U.H
17/04/2026
حزب اللہ نے تاکید کی ہے کہ لبنان میں اعلان کردہ جنگ بندی اسلام آباد مذاکرات اور ایران کی طرف سے امریکی فریق پر دباؤ اور اصرار کا نتیجہ ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، قطری ٹی وی العربی نے ایک سینئر حزب اللہ رکن کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے آج مزاحمت کو جنگ بندی کے معاہدے سے آگاہ کیا، تاہم اس کا کوئی واضح ٹائم فریم بیان نہیں کیا گیا۔ اس سینئر عہدیدار، جس کا نام نہیں بتایا گیا، نے کہا کہ جنگ بندی اسلام آباد مذاکرات اور ایران کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت اس عمل کو ایک جامع علاقائی حل کی طرف لے جانے کے لیے مذاکرات کو موقع دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل مکمل طور پر جنگ بندی کی پاسداری کرے گا تو ہم بھی اس کی پابندی کریں گے۔ ان کے مطابق، لبنان کی سرزمین پر قبضہ جاری رہنے کی صورت میں مزاحمت کا حق برقرار رہتا ہے۔ اسی سلسلے میں حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی فیاض نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کے دباؤ، پاکستان کی کوششوں اور سعودی عرب کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے انخلا، جارحانہ کارروائیوں کے خاتمے اور جنوبی لبنان سے بے گھر افراد کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
فیاض نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ کسی بھی صورت مزاحمت کے حق کو ختم نہیں کرتا، اور موجودہ 10 روزہ جنگ بندی ناکافی ہے کیونکہ صورتحال پیچیدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ براہ راست مذاکرات لبنان میں اندرونی تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار معاریو نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد لبنان میں صورتحال گوریلا جنگ میں بدل سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی آج رات سے شروع ہو رہی ہے۔ نیٹ ورک المیادین کے مطابق اسرائیلی جائزوں میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو اسے ایران کے سامنے ٹرمپ کی پسپائی سمجھا جائے گا۔ خبر رساں ادارہ رائٹرز نے ایک سینئر حزب اللہ رکن کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے سفیر نے کچھ گھنٹے قبل انہیں جنگ بندی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔