ٹرمپ نے کینیڈا پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا
38
M.U.H
21/07/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر نئے اور وسیع پیمانے پر تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی تجارتی کشیدگی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بعض کینیڈین مصنوعات، جن میں برقی آلات اور مشینری شامل ہیں، پر 50 فیصد ٹیرف آئندہ 30 روز میں نافذ ہوگا۔ ان محصولات کا اطلاق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات پر ہو گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ملک پر عائد کیے جانے والے یہ سخت ترین محصولات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے شمالی علاقوں میں کینیڈا سے آنے والے جنگلاتی آگ کے دھویں کے تناظر میں کینیڈا کو ٹیرف کی دھمکی دی تھی، تاہم امریکی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اقدامات کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
ادھر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک آزاد اور منصفانہ تجارت پر یقین رکھتا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا اپنے مزدوروں، کسانوں، کاروباری اداروں اور خاندانوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ دوسری جانب اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ اگر امریکی ٹیرف نافذ ہوتے ہیں تو کینیڈا بھی "ٹیرف کے بدلے ٹیرف اور ڈالر کے بدلے ڈالر" کی پالیسی اپناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کرے۔