مسلم نوجوان پر مبینہ تشدد کے معاملے میں اے پی سی آر کی مداخلت پر محکمہ جنگلات کے 5 ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج
79
M.U.H
28/08/2026
کچھ، گجرات: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی مسلسل تین روزہ کوششوں، متعلقہ حکام سے رابطے اور پیروی کے بعد کچھ کے لوریا گاؤں کے رہائشی مسلم نوجوان فرید حاجی میر پر مبینہ حملے کے معاملے میں بھی محکمہ جنگلات کے پانچ ملازمین کے خلاف بالآخر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اے پی سی آر کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق فرید حاجی میر کو مبینہ طور پر محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے روک کر اس کا نام پوچھا، جس کے بعد اس پر تشدد کیا گیا۔ الزام ہے کہ ملزمان کو جب معلوم ہوا کہ فرید حاجی میر مسلمان ہے تو اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس دوران فرید حاجی میر کو شدید چوٹیں آئیں اور اس وقت وہ جی کے جنرل اسپتال، بھج میں زیر علاج ہے، جہاں اس کا آپریشن بھی ہو چکا ہے۔
محکمہ جنگلات کے ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اے پی سی آر ٹیم نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے ایف آئی آر درج کرنے اور واقعے کی منصفانہ و غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ واقعے کی سنگینی کے باوجود فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس کے بعد تنظیم نے مسلسل تین دن تک حکام سے رابطہ کیا اور مختلف سطحوں پر بھرپور پیروی کی۔ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں محکمہ جنگلات کے پانچوں ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ اے پی سی آر نے ایف آئی آر کے اندراج کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے میں عائد الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سنگین اور تشویش ناک ہے کہ الزامات سرکاری محکمے کے ملازمین کے خلاف ہیں۔ سرکاری عہدے اور اختیارات شہریوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے استعمال کیے جانے چاہئیں، نہ کہ ان کے مبینہ استحصال یا خلاف ورزی کے لیے۔ اے پی سی آر کے مطابق اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین نے کسی شہری پر تشدد کیا، اپنے عہدے یا اختیارات کا غلط استعمال کیا یا قانون کی خلاف ورزی کی، تو ان کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔ کسی بھی سرکاری عہدے یا حیثیت کو قانون سے بالاتر ہونے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار
دریں اثناء اے پی سی آر نے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شدید جسمانی تشدد کا الزام لگانے والے کسی شخص کو فوجداری مقدمہ درج کرانے کے لیے بار بار حکام کے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑنے چاہئیں۔ ایسے معاملات میں پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت پر فوری کارروائی کریں اور قانون کے مطابق مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کریں۔ اے پی سی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے سرکاری عہدے یا محکمہ جاتی حیثیت کو کسی بھی صورت میں تفتیش پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے اور تمام فریقوں کے ساتھ یکساں قانونی برتاؤ یقینی بنایا جائے۔ اس دوران فرید حاجی میر بدستور جی کے جنرل اسپتال، بھج میں زیر علاج ہیں۔ اہل خانہ نے اس کی طبی حالت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جس کے بعد اے پی سی آر نے بھروسہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم متاثرہ خاندان کو ضروری قانونی معاونت اور رہنمائی فراہم کر رہی ہے اور آئندہ بھی اس معاملے کی پیروی جاری رکھے گی۔
منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
اے پی سی آر نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، مذہبی امتیاز کے الزام کی بھی مکمل جانچ کی جائے، واقعے سے متعلق تمام اہم گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں، طبی شواہد کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے اور اگر کسی شخص کو ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تنظیم نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری اہلکاروں کے خلاف تشدد اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کی صورت میں جواب دہی کے مؤثر نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ سرکاری ملازمت یا عہدہ کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ فراہم نہیں کرتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق، عزت و وقار اور جسمانی سلامتی کا تحفظ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اے پی سی آر نے واضح کیا کہ وہ فرید حاجی میر کے معاملے کی قانونی سطح پر مسلسل پیروی کرے گی اور اس وقت تک متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی رہے گی جب تک معاملے میں قانون کے مطابق شفاف تحقیقات اور مناسب کارروائی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔