نیٹ پیپر لیک کے خلاف مظاہروں سے متعلق مقدمات پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم
5
M.U.H
01/09/2026
نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک کے خلاف دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ طلب کرنے والے طلبہ کے خلاف ان معاملات میں اب کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے متعلقہ ریاستوں کو بھی ہدایت دی کہ اگر اسی معاملے سے متعلق کوئی مزید ایف آئی آر سامنے آتی ہے تو اس کی تحقیقات آگے نہ بڑھائی جائیں۔
دہلی، آسام، بہار اور مغربی بنگال کی ایف آئی آر منسوخ
عدالت نے دہلی، آسام، مغربی بنگال اور بہار میں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم دہلی پولیس کو ان 2,873 افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف پہلے سے مجرمانہ مقدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اسی احتجاج سے متعلق ایسی کوئی ایف آئی آر موجود ہے جس کی اطلاع عدالت کو ابھی نہیں دی گئی، تو اسے بھی منسوخ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے اور ریاستیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے بتایا کہ 20 سے 25 جولائی کے درمیان جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہزاروں طلبہ نے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ پولیس نے مجموعی طور پر 13 ایف آئی آر درج کی تھیں۔ ان مقدمات کے حوالے سے دہلی، مہاراشٹر، آسام، بہار اور مغربی بنگال سے متعلق درخواستیں عدالت کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ عدالت نے کہا کہ مظاہروں سے متعلق مقدمات میں اب مزید کارروائی نہیں کی جائے گی، البتہ ایسے افراد جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، ان کے معاملے میں دہلی پولیس کو مقررہ کارروائی جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
خودکشی کرنے والے طلبہ کے معاوضے پر بھی ہدایت
سپریم کورٹ نے نیٹ امتحان 2026 کے دوران مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے معاملے پر بھی اہم ہدایت دی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں حکومت تین ماہ کے اندر ایک پالیسی تیار کرے گی۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ پالیسی تین ماہ میں مکمل کرکے معاوضے کی ادائیگی کا عمل بھی شروع کیا جائے۔
5 ستمبر کا احتجاجی مارچ واپس
سماعت کے دوران سی جے پی کے کو۔ کنوینر سورَو داس نے تنظیم کا بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مثبت یقین دہانی، عدالت کے حکم اور عدالتی کارروائی کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پر مجوزہ مارچ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عدالت اور دونوں فریقوں کے وکلا، خصوصاً سالیسٹر جنرل، کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کا مظاہرہ کریں تو تمام مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس پر کھلے ذہن سے بات چیت کی جائے تو اس کا حل تلاش نہ کیا جا سکے۔