ایران کی شرائط قبول کرکے جنگ سے باہر نکلنا امریکہ کے مفاد میں ہے: جنرل محسن رضائی
3
M.U.H
19/09/2026
تہران: الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے تخمینے اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔ یہ جنگ اسرائیلی رجیم کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اکسانے پر شروع کی گئی ہے۔
میجر جنرل محسن رضائی کہا کہ یہ واشنگٹن کے مفاد میں ہے کہ جنگ سے دستبرداری کے لیے تہران کی شرائط پر راضی ہو جائے کیونکہ ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران امریکی فوج کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہے اور فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ مستعد ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ اسلام آباد ایم او یو سے امریکہ کی دستبرداری کے بعد ایران اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسے واشنگٹن کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگي۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے حال ہی میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب ایک جدید ترین اینٹی شپ میزائل کا تجربہ بھی کیا ہے۔
میجر جنرل محسن رضائي نے کہا کہ ہم دفاع کے لیے سنجیدہ ہیں اور اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم خطے میں امریکی اڈوں اور واشنگٹن کے مفادات کو زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں سے مشاورت جاری ہے اور ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط سے انہیں آگاہ کردیا ہے۔ایران قطری ثالث کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اور دوحہ نے جنگ روکنے کے لیے تہران کی شرائط سے واشنگٹن کو پہنچا دی ہیں اور ایران اب ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ تہران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واگزاری اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
میجر جنرل محسن رضائی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے اقدامات ایران کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ایران نے ابھی تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور یہ مسئلہ واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔
انہوں نے ایران کے اس دیرینہ موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ تہران سپریم لیڈر کے فتویٰ پر عمل پیرا ہے اور تاحال اس نے اپنے جوہری نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے لیکن مستقبل میں کیا ہوگا اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
میجر جنرل رضائی نے مزید کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور یمنی بھی ریاض کے ساتھ سمجھوتے کے خواہاں ہیں۔