اٹلی میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کی جائے گی:میلونی
11
M.U.H
21/09/2026
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا ملونی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت اسکولوں میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی اور کلاس رومز میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
مغربی میڈیا کے مطابق ملونی نے اپنی جماعت کی نوجوان شاخ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ہر کلاس میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کی حد مقرر کرنے سے متعلق ایک منصوبہ پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ایسے غیر ملکی طلبہ کے والدین کو بھی اطالوی زبان سیکھنے کا پابند کیا جائے گا، جن کے بچوں کو اسکول کے نظام میں انضمام کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں برقع اور نقاب پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔
اٹلی کی وزیراعظم نے کہا کہ طلبہ کو چہرہ نمایاں کرکے اسکول آنا ہوگا اور اٹلی میں کوئی بھی شخص حقیقی یا فرضی روایات کا حوالہ دے کر کسی نوجوان خاتون کے خود کو چھپانے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
ملونی نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ایک کلاس میں زیادہ سے زیادہ کتنے غیر ملکی طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
ایک تحقیقی ادارے کے مطابق اٹلی کے اسکولوں میں رجسٹرڈ طلبہ میں غیر ملکی طلبہ کا تناسب 11.6 فیصد ہے۔
بحیرہ روم کے وسط میں جغرافیائی محل وقوع کے باعث اٹلی ان یورپی ممالک میں شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچتے ہیں۔ اسی وجہ سے مہاجرت کا مسئلہ اٹلی میں حکومتوں کے لیے ایک حساس اور اہم چیلنج بن چکا ہے۔
مذہبی علامات، ثقافتی انضمام، شہریت کے قوانین اور مہاجرت کی پالیسیوں سے متعلق معاملات بھی اٹلی میں طویل عرصے سے زیر بحث اور متنازع موضوعات میں شامل ہیں۔