کانگریس ورکنگ کمیٹی سی ڈبلیو سی کا بڑا مطالبہ، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ایس آئی آر معطل کرنے کی قرارداد منظور
33
M.U.H
29/09/2026
نئی دہلی: کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے منگل کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے ملک میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو فوری طور پر معطل کرنے اور اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ناموں کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب سے جاری قرارداد میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رپورٹس سے اس کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے دور میں الیکشن کمیشن کے کام کاج پر حکمران جماعت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اثر بڑھا ہے۔
قرارداد میں کانگریس نے پارٹی رہنما راہل گاندھی کی جانب سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ پارٹی نے ای وی ایم کی قابلِ اعتمادیت، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے طریقۂ کار، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار اور انہیں حاصل قانونی تحفظ جیسے معاملات کو بھی اپنی تشویش کا حصہ قرار دیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراضات درج کرائے۔ ان میں ایس آئی آر کے دوران استعمال ہونے والے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست کے ذریعے گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں اور ایس آئی آر کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے اگلے ہفتے سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
قرارداد میں کانگریس نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ووٹرز پر اپنی اہلیت ثابت کرنے کا بوجھ ڈال دیا جائے اور شفاف حفاظتی انتظامات کے بغیر بڑی تعداد میں نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جائیں تو یہ آئین کے آرٹیکل 14 میں دی گئی مساوات اور آرٹیکل 326 کے تحت بالغ رائے دہی کے اصول سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کے ذریعے تیار کی جا رہی ووٹر لسٹوں کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے، خارج کیے گئے 13.30 کروڑ نام بحال کیے جائیں اور انتخابی عمل میں شفافیت و جواب دہی یقینی بنائی جائے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق اس کے فیصلے قانونی اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہیں، جبکہ کمیشن نے اندرونی اختلافات کو ادارہ جاتی غوروفکر کا معمول کا حصہ قرار دیا ہے۔