ہندوستان -امریکا تجارتی معاہدہ تعلقات کو بہتر سمت دے سکتا ہے: وزیر خارجہ ایس جے شنکر
32
M.U.H
29/09/2026
نیویارک: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ اگر حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو بہتر سمت میں لے جانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں تیز رفتاری سے پیش رفت کی ابتدائی امیدیں زمینی صورتحال کی پیچیدگی کے سامنے آزمائش سے گزری ہیں۔جے شنکر نے یہ بات پیر کو نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک خصوصی نشست کے دوران ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے نمایاں افراد اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے اختتام پر منعقدہ اس نشست میں ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز رکن اور سابق امریکی سفارت کار ڈینیئل رسل نے نشست کی نظامت کی۔ گفتگو میں گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور محصولات میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بہتر سمت میں لے جانے کے لیے درکار اقدامات پر سوالات کیے گئے۔عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات مشکل رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ حقیقت ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو درپیش مسائل کا جواز نہیں ہے۔
تجارتی مذاکرات میں پیچیدگی بڑی رکاوٹ
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں موجود مشکلات کی وضاحت کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی حالات اور پیداواری ڈھانچے میں نمایاں فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان چھوٹے پیدا کنندگان کا معاشرہ ہے جہاں چھوٹے زرعی پیدا کنندگان اور چھوٹی فیکٹریاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان فی کس آمدنی کا فرق بھی ہے۔ دونوں ممالک میں پیداوار کی نوعیت اور معاشرتی ڈھانچہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تجارتی مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے صبر اور تفصیلی غور و خوض ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ توقع کہ مذاکرات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے زمینی حقیقت کی زیادہ پیچیدگی کے باعث پوری نہیں ہو سکی۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں تجارتی معاہدے کے حوالے سے بڑی حد تک باہمی اتفاق رائے موجود ہے۔
دونوں ممالک نے رواں سال فروری میں دو طرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کے لیے بنیادی خاکہ مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد امریکہ کے محصولات کے نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث مذاکرات کا سلسلہ مزید طول پکڑ گیا۔
محصولات اور دفعہ 301 کا معاملہ
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے باہمی محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد واشنگٹن نے محصولات کے لیے ایک متبادل نظام کی طرف پیش قدمی کی۔
جولائی میں امریکہ نے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت ہندوستان سے درآمد ہونے والی بعض اشیا پر اضافی 10 فیصد محصول عائد کیا تھا۔ یہ اقدام ہندوستان کی جانب سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا سے متعلق پالیسیوں کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا۔
امریکی محصولات کے نظام میں ان تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری رہے ہیں۔
جے شنکر نے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکی جانب سے کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں اور دفعہ 301 کے تحت جاری عمل کا تجارتی معاہدے پر کیا اثر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 301 کا عمل ابھی جاری ہے اور سوال یہ ہے کہ ایسے وقت میں معاہدے کو حتمی شکل کیسے دی جائے جب مذاکرات پہلے ہی کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے میں لگا وقت گزشتہ سال دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔ تاہم اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
نقل مکانی اور عوامی رائے بھی اہم عوامل
وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو امریکہ کے اندرونی سیاسی اور سماجی حالات سے پیدا ہونے والے دباؤ کا بھی سامنا رہا ہے۔
پیشہ ور افراد کی ایک ملک سے دوسرے ملک آمد و رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی برس تک نقل مکانی کو اقتصادی فائدے کے طور پر دیکھا جاتا رہا لیکن اب نقل مکانی کی معیشت اور اس کی سیاست ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ موجودہ دور میں سفارت کاری صرف حکومتوں کے درمیان تعلقات تک محدود نہیں رہی۔ سماجی ذرائع ابلاغ کے دور میں عوامی رائے کا عنصر بھی بہت اہم ہو گیا ہے اور کھلے جمہوری معاشروں میں عوامی جذبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوستان چاہے گا اور توقع رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات آگے بڑھیں گے۔ تاہم موجودہ مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا ضروری ہے اور ان میں سے کچھ معاملات پر پیش رفت ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ہندوستان اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کو تقریباً مکمل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے ہندوستان کو امریکی بازار میں آسیان ممالک چین اور بنگلہ دیش سمیت علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مناسب مسابقتی سہولتیں فراہم کیے جانے کے بعد معاہدے پر مزید پیش رفت ہوگی۔