وزیرخارجہ عراقچی: ماحول حیات سیاسی رقابت کا میدان نہیں ہے، جارحین ماحولیات کی تباہی کا جواب دیں
53
M.U.H
11/10/2026
تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار 11 اکتوبر کو " اکوسائڈ(Ecocide) خاموش جنگی جرائم" کے زیر عنوان منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت میں، تیل کی تنصیبات، ریفائنریوں اور جوہری توانائی کے مراکز پر حملوں نے ماحول حیات کو سخت خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
انھوں نے ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں وسیع آتشزدگی اور خطرناک آلودگی پھیلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آلودگی، مٹی اور آبی وسائل میں شامل ہوکر، کھانے پینے کی اشیا کو بھی زہریلا کرسکتی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ماحول حیات کی تباہی صرف اقتصادی نقصانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ مٹی بھی آلودہ ہوجاتی ہے جو باقی رہتی ہے، آبی ذخائر بھی تباہ ہوجاتے ہیں اورجنگل نابود ہوجاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب حملے کے نتیجے میں فضا اور سمندر میں آلودگی پھیلتی ہے تو اس کے آثار حملے کے زمان ومکان کی حدود سے ماورا ہوجاتے ہیں۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ آج جو بچہ جنگ زدہ علاقے میں زندگی گزار رہا ہے، ممکن ہے کہ دس سال بعد بھی اس علاقے میں پھیلنے والی آلودگی کی قیمت ادا کرے جس میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ امن، سلامتی، ماحول حیات، حفظان صحت اور موسمی تبدیلی، ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں اور جنگوں میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور ماحول حیات کی تباہی پر بین الاقوامی قوانین کو خاموش اور لا تعلق نہیں رہنا چاہئے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے انسان دوستانہ بین الاقوامی حقوق کے اصول وضوابط کے موثر نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ ماحول حیات پر جنگی اقدامات کے طویل المیعاد براہ راست اور بالواسطہ آثار پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے ماحول حیاتی کو تباہی سےبچانا بین الاقوامی برادری کی بنیادی ترین لازمی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی حکومت، ادارے یا فریق کویہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بالاتر ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اکو سسٹم اور ماحول حیات کی وسیع تباہی اور پانی اور مٹی کی آلودگی کی موثر انداز میں پائیدار روک تھام کے ساتھ ہی، ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے مرتکبین کو جواب دہ بنانا اور ان کا مواخذہ بھی ضروری ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران قدرتی ماحول حیات کی تباہی، اکوسائڈ (Ecocide) کو بین الاقوامی جرم قرار دینے نیز ماحول حیات کے تحفظ کے بین الاقوامی اقدامات کی تقویت کے لئے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے جنگوں میں ماحول حیات کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جنگیں نہ صرف یہ کہ انسانوں کی جان لیتی ہیں بلکہ پانی، مٹی، فضا، زراعت، قدرتی وسائل ا ور حفظان صحت پر ان کے تخریبی اثرات برسوں بلکہ نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔
انھوں نے صنعتی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں اور زندگی کے بنیادی ڈھانچوں کی تباہی سے پھیلنے والی خطرناک مواد کی آلودگی
کے نتائج کی جانب سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کی قیمت میدان جنگ سے باہر ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ قیمت، عام شہری بالخصوص بچے اور مستقبل کی نسلیں ادا کرتی ہیں جنھیں زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ماحول حیات کا تحفظ، بعض ملکوں کے لئے امتیاز اور دوسرے ملکوں کے لئے ذمہ داری ہو۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ماحول حیات کے اصول وضوابط اور معیار اسی وقت معتبر ہوسکتے ہیں جب کسی امتیاز کے بغیر شفاف اور منصفانہ طور پر نافذ کئے جائيں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خودسرانہ اقدامات اور بین الاقوامی پابندیاں، ماحول حیات کی حفاظت اور موسمی تبدیلی سے نمٹنے میں ملکوں کی توانائیاں متاثر کررہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ قانونی امور، انسانی مسائل اور ماحول حیات پر ان اقدامات اور پابندیوں کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
سید عباس عراقچی نے آلودگی سے پاک ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور علمی وسائنسی سہولتوں تک ترقی پذیر ملکوں کی دسترسی کو ماحول حیات کے تعلق سے عدل وانصاف کا لازمہ قرار دیا اور غیر ضروری نیز امتیازی رکاوٹیں دور کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے ماحول حیات کی وسیع تباہی کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور اس تعاون کے لئے تین بنیادی محور بیان کئے۔
انھوں نے ماحول حیات کی وسیع تباہی اورتخریب کی شناخت اور جائزے کے لئے، واضح اصول وضوابط اور معیاروں کی تدوین اور بین الاقوامی دائرہ کار کی تقویت کو اس تعاون کا پہلا محور قرار دیا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ماحول حیات کے تحفظ میں بین الاقوامی تعاون کے دوسرے محورکی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ مسلحانہ جنگ سے ماحول حیات کو پہنچنے والے نقصانات کی دستاویزات تیار کرنے کے لئے، ایک غیر جانبداری علمی نظام تیار کیا جائے جس میں اس بات پر توجہ مرکوز رکھی جائے کہ قانونی ذمہ داریوں پر عمل درآمد ہو اور جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی ہوسکے۔
انھوں نے ماحول حیات کی تباہی کی روک تھام، متاثر ہونے والے اکو سسٹم کی از سر نو تعمیر وبحالی اوران ممالک کی حمایت میں، جن کی تکنیکی اور مالی توانائیاں محدود ہیں، علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی توسیع کو تیسرا محور قرار دیا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنوینشن کے اکتیسویں اجلاس کو ماحول حیات اور موسمی حالات پر فوجی حملوں کے تخریبی اثرات کا جائزہ لینے کا بہترین موقع قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ مقصد، بین الاقوامی تعاون کی تقویت، ذمہ داری اور جواب دہی میں اضافہ، ماحولیات کی تباہی کی بھینٹ چڑھنے والی کی حمایت، ماحول حیات کی حفاظت اور آئندہ نسلوں کے حقوق کی ضمانت ہونا چاہئے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ماحول حیات کی تخریب کی روک تھام میں بین الاقوامی تعاون کی تقویت کے لئے، اپنی تمام تر سائنسی، قانونی، اور سفارتی توانائیاں بروئے کار لانے کے لئے تیار ہے۔
انھوں نے ماحول حیات کی تباہی کے ذمہ داروں کی جواب دہی اور مواخذے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ جارحین اپنے مجرمانہ اقدامات کی جواب دہی سے بچ جائيں بلکہ اجتماعی مشارکت اور باہمی تعاون سے ان کے مواخذے کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آخر میں کہا کہ مذاکرات کی میز یا جنگوں میں ماحول حیات اور فطرت کی کوئی آواز نہیں ہوتی اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ان کا سکوت، بشریت کے مستقبل کی نابود پر منتج ہو۔