فارم-6 پر سپریم کورٹ کا بیان، کہا- ’نہ منظوری دی نہ مسترد کیا، قانونی حیثیت کا جائزہ لیں گے‘
42
M.U.H
12/10/2026
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اس نے نئے ووٹروں کے اندراج سے متعلق نئے فارم-6 کو نہ تو منظوری دی ہے اور نہ ہی مسترد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس فارم کی قانونی حیثیت پر اب تک کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور وہ اس معاملے کا جائزہ لے گا۔
’لائیو لا‘ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران یہ وضاحت کی۔ عدالت نے کہا کہ مئی 2026 میں بہار میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے میں سنائے گئے فیصلے کے وقت نیا فارم-6 وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس لیے اس فیصلے میں نئے فارم کی قانونی حیثیت پر کوئی غور نہیں کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران عرضی گزار پریا مشرا کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نریندر مشرا نے کہا کہ عدالت نے 5 اکتوبر کو پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ فارم-6 کو سپریم کورٹ کی منظوری حاصل نہیں ہے، لیکن الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے اس فارم کو منظوری دی ہے۔ اس پر جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے کہا کہ نئے فارم-6 پر کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے وکلا کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ اس طرح خبر بنانے کے لیے الفاظ کو چن کر پیش نہ کریں۔
جسٹس باگچی نے مزید وضاحت کی کہ چیف جسٹس کے سابقہ بیان کا مطلب صرف یہ تھا کہ بہار ایس آئی آر کے معاملے میں جب مئی 2026 میں فیصلہ سنایا گیا تھا، تب نیا فارم-6 موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق، اس بیان کا یہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے کہ سپریم کورٹ نے نئے فارم کو منظور یا مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس معاملے کی جانچ کرے گی۔
بنچ نے عرضی پر نوٹس جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور اسے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دائر متعلقہ عرضیوں کے ساتھ 27 اکتوبر کو سماعت کے لیے فہرست بند کر دیا۔ خیال رہے کہ نئے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیاں اس وقت تنازعہ کا موضوع بن گئیں جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے ان تبدیلیوں پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ووٹر رجسٹریشن سے متعلق 1960 کے قواعد میں مرکزی حکومت کی جانب سے ترمیم کیے بغیر فارم میں اس طرح کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود نئے فارم-6 کو نافذ کیا گیا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے 26 ستمبر کو ایک بیان جاری کرکے اشارہ دیا کہ سپریم کورٹ نے بہار ایس آئی آر سے متعلق مئی 2026 کے فیصلے میں اس فارم کو برقرار رکھا تھا۔
پریا مشرا اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر قانون پی سی شرما کی جانب سے دائر عرضی میں الیکشن کمیشن کے اجتماعی فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ تقریباً 10 ماہ کے دوران لگ بھگ 14 فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیر کیے گئے۔
عرضی گزاروں نے ان فیصلوں، احکامات، نوٹیفکیشن اور انتظامی ہدایات کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے جنہیں مبینہ طور پر مقررہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ ریکارڈ، میٹنگوں کی کارروائی، ووٹنگ کی تفصیلات اور اختلافی نوٹس بھی عدالت میں پیش کرنے کی مانگ کی ہے۔