راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کی عرضی پر سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس، احتجاج کے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی ہدایت
7
M.U.H
15/10/2026
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران کی گئی کارروائی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کو لے کر جمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ دوسری طرف عدالت نے مظاہرہ کے دوران پولیس کارروائی، میٹرو اسٹیشن پر پابندی اور انٹرنٹ سروس بند کیے جانے سے منسلک حکم عدولی کی عرضی پر بھی سماعت کی۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر لیڈران کی عرضی پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرز کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی کو حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ آنے پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کی جگہ کے طور پر ڈینوٹیفائی کرنے کی عرضی پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ایس آئی آر سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ عرضی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ عرضی پر فیصلہ سنانے سے قبل عرضی دہندگان کو اپنے رویہ پر وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ اپوزیشن پارٹی لیڈران کی اس مشترکہ عرضی میں مجموعی طور پر 13 عرضی دہندگان ہیں، لیکن سپریم کورٹ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کس عرضی دہندہ کے رویہ پر اسے اعتراض ہے۔
اس درمیان احتجاجی مظاہروں سے منسلک معاملوں میں کئی وکلا کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے سبھی لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرہ سے جڑے واقعات کے سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھیں اور انھیں عدالت میں پیش کریں۔ دہلی میں 10 اکتوبر کو ہوئے مظاہرہ کے دوران عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی طرف سے عدالت میں جوابات بھی داخل کر دیے گئے ہیں۔ افسران کے خلاف داخل حکم عدولی کی عرضیوں میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی پہلی کی ہدایات کے باوجود مظاہرہ کے دوران لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی، مظاہرین کو حراست میں لیا گیا اور میٹرو خدمات اور انٹرنیٹ پر پابندی لگائی گئی۔