اسرائیل میں انتخابی نتائج پر تنازعہ، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ووٹ چوری اور قطر سے فنڈنگ کے الزامات مسترد، الیکشن کمیشن نے نتائج برقرار رہنے کا دیا اشارہ
47
M.U.H
02/11/2026
اسرائیل میں انتخاب کے نتائج کو لے کر تنازعہ جاری ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی پارٹی ’لیکوڈ‘ نے الزام عائد کیا تھا کہ عرب پارٹیوں نے انتخاب میں ووٹ چرائے ہیں۔ پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان پارٹیوں نے ووٹ خریدنے کے لیے قطر سے پیسے لیے تھے۔ حالانکہ نیتن یاہو کی پارٹی اپنے الزامات کے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی۔ قطر نے بھی ان الزامات کو خارج کر دیا۔ اس نے اسے جھوٹی معلومات پھیلانے کی کوشش قرار دیا۔
اتوار کو اسرائیل کے الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج پر بیان جاری کیا۔ کمیشن کے سربراہ نوآم سولبرگ نے کہا کہ اگر انتخاب میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات سچ بھی ثابت ہوتے ہیں تب بھی انتخاب کے نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔ اس سے پورے انتخابی عمل کی ساکھ پر بھی سوال نہیں اٹھے گا۔ سولبرگ نے یہ بات ایک ویڈیو پیغام میں کہی۔ اس دوران ان کے ساتھ اسرائیل کی انٹرنل سیکورٹی ایجنسی ’شن بیٹ‘ کے سربراہ اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔
دوسری جانب اسرائیل پولیس نے اتوار کو 3 سیاسی کارکنان میں سے 2 کو رہا کر دیا۔ ان لوگوں کو ووٹنگ شروع ہونے سے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ لوگ پیسے سے بھرے لفافے لے کر گھوم رہے تھے۔ ان پر پیسے دے کر ووٹ خریدنے کا الزام تھا۔ رہا کیے گئے لوگوں میں سے ایک کو کچھ شرائط کے ساتھ چھوڑا گیا ہے، دوسرے کو گھر میں ہی رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ان لوگوں کا تعلق عرب کی قیادت والی پارٹی ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ سے ہے۔ اس پارٹی نے انتخاب میں 8 سیٹیں جیتی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر آئزن کوٹ نے اتوار نیتن یاہو پر انتخاب کے نتائج کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلانے کا الزام عائد کیا۔ آئزن کوٹ پہلے عرب پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے سے انکار کر چکے ہیں۔ لیکن اس بار کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ ایسے میں عرب پارٹیوں کا ساتھ ملنے پر وہ حکومت بنا سکتے ہیں۔