عراقچی: امریکا سے براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں ہے
50
M.U.H
02/11/2026
تہران: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ایران کے براہ راست مذاکرات کے بارے میں جو باتیں کی جارہی ہیں،وہ ذرائع ابلاغ کے اپنے اندازے ہیں جن کی حیثیت افواہ سے زیادہ نہيں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت ہم جن حالات میں ہیں، ان میں، امریکیوں سے براہ راست ملاقات کی کوئی ضرورت نہيں ہے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ثالثین کے توسط سے گفتگو جاری ہے اور ہمارے نائب وزیرخارجہ قطر میں موجود ہیں۔
سید عباس عراقچی نے الجزیرہ کے نمائندے کے اس سوال کے جواب میں کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے دوحہ یا ترکیہ میں ملاقات کی بات کی ہے، ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی کب توقع کی جاسکتی ہے؟ کہا کہ اگر امریکا ہماری شرائط قبول کرے تو آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اس کے بعد گفتگو شروع ہوگی، اب وہ گفتگوبالواسطہ ہوگی یا بغیر کسی واسطے کی ہوگی، یہ بعد کی بات ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے نیویارک میں قطر کے توسط سے، مسٹر کشنر اور وٹکاف کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور انجام دیا تھا، وہیں آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران کی شرائط اور سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔