صیہونی حکمران امریکہ کی شہہ پر جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، قائد انصاراللہ یمن
21
M.U.H
05/04/2025
یمن میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدر الدین الحوثی نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کے برے میں ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا: "صیہونی حکومت نے نسل کشی دوبارہ شروع کر دی ہے اور وہ خیموں میں فلسطینی خواتین اور بچوں پر بم گرا رہی ہے اور یہ بم امریکہ فراہم کر رہا ہے۔" قائد انصاراللہ یمن نے مزید کہا: "صیہونی رژیم مقبوضہ سرزمین کے اصل مالک فلسطینیوں کو جبری جلاوطن کر دینے کے درپے ہے۔"
صیہونی رژیم نے غزہ میں نسل کشی دوبارہ شروع کر دی ہے
سید بدرالدین الحوثی نے کہا: "بین الاقوامی تنظیمیں غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر قحط، گندم کی ترسیل میں کمی اور بیکریوں میں آٹے کی کمی کی اطلاع دے رہی ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیلی دشمن فلسطینی عوام کو غذائی قلت اور ادویات سے محروم کرنے کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔" انہوں نے کہا: "اسرائیلی دشمن نے گذشتہ دو ہفتے سے ایک بار پھر اسی سفاکیت کے ساتھ مجرمانہ اقدامات دوبارہ شروع کر دیے ہیں جس کا ہم گذشتہ 15 مہینوں میں مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اسرائیلی دشمن کسی قسم کے قوانین، معاہدوں، اقدار اور اخلاقیات کی پاسداری نہیں کرتا اور انتہائی وحشیانہ انداز میں بدترین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔"
صیہونی حکمران امریکہ کہ شہہ پر مجرمانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں
انصاراللہ یمن کے سربراہ نے کہا: "صیہونی دشمن امریکہ کی حوصلہ افزائی سے غزہ میں جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ امریکہ صیہونی مجرم رژیم کو بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کے لیے ضروری ہتھیار فراہم کرنے میں مصروف ہے۔" سید بدرالدین الحوثی نے کہا: "امریکی حکام کھلے عام اور واضح طور پر صیہونی رژیم کے تمام اقدامات کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں اور جب غاصب رژیم نے غزہ پر دوبارہ جارحیت شروع کی تو وائٹ ہاؤس نے اس کے ہر اقدام کی حمایت کا اعلان کیا۔" انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کی مکمل حمایت سے ہو رہا ہے۔ قائد انصاراللہ نے مزید کہا: "دشمن کس رضاکارانہ ہجرت کی بات کرتا ہے؟ جبکہ وہ غزہ میں مہاجرین کے خیموں پر بم اور میزائل برسا رہا ہے۔"
جنین میں سانحہ
سید بدرالدین الحوثی نے مغربی کنارے میں صہیونیوں کے جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی دشمن مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا ہے اس کا مقصد لوگوں کو بے گھر کرنا ہے اور جنین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل تباہی ہے۔" انصاراللہ کے سربراہ نے مزید کہا: "مسجد الاقصی کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور بن گویر (نیتن یاہو کی کابینہ میں انتہا پسند وزیر) کے اقدامات اسلامی مقدسات کے خلاف کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "امت مسلمہ اسرائیلی دشمن کے مجرمانہ اقدامات کے خطرے سے روبرو ہے جس کا مقصد امریکہ کی مکمل حمایت سے فلسطین کاز کو ختم کرنا ہے۔"
بیروت پر بمباری
سید بدرالدین الحوثی نے کہا: "صیہونی دشمن لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس کے حملے اور جارحیت ابھی تک نہیں رکی اور بیروت پر بمباری جاری ہے جس کا ہدف اسلامی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ جمانا اور لبنانیوں کا خون بہانا ہے۔"
شام پر فضائی حملوں کا تسلسل
انصاراللہ کے سربراہ نے مزید کہا: "اسرائیلی دشمن نے دمشق اور شام کے باقی صوبوں میں فضائی جارحیت اور بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور جنوبی شام کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام بھی مقامی مسلح عناصر کی مدد سے دمشق کی طرف پیشقدمی کر رہے ہیں۔"
تکفیری گروہوں کے ہاتھوں شامی شہریوں کا قتل
انہوں نے کہا: "شام میں تکفیری گروہوں کے پاس بے بس اور بے دفاع شہریوں کو قتل کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ وہ صہیونیوں کی قتل و غارت، لوٹ مار اور تباہی کے اقدامات کو دیکھتے ہیں لیکن صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی عملی یا سنجیدہ اقدام نہیں کرتے۔"
فلسطین کے بارے میں عرب ممالک کی خاموشی اور بے حسی
انصاراللہ یمن کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا: "فلسطین کے حالات پر عرب ممالک کی خاموشی اور بے حسی تمام اصولوں، اقدار، اخلاقیات، قوانین اور شریعت کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔" انہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والوں کے خلاف امریکی حکومت کی کارروائیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "امریکہ سرکاری طور پر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور ہمدردی کے لیے اٹھنے والی انسانیت کی ہر آواز کو دبانے کی کوشش میں مصروف ہے۔" سید بدرالدین الحوثی نے کہا کہ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم انسانی معاشرے کو جنگل کے قانون اور حیوانی طرز عمل کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "امریکہ فلسطین کے حامی یونیورسٹی طلبہ اور اساتید پر دباؤ ڈال رہا ہے اور ان میں سے کچھ کو امریکہ سے نکال باہر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یورپی ممالک میں بھی فلسطین کے حامی طلبہ اور کارکنوں پر اسی طرح کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔" انہوں نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا: "اقوام متحدہ صہیونی دشمن کو اس ادارے سے نکال کیوں نہیں دیتی؟"
صیہونی دشمن کے خلاف حملوں کے باعث یمن پر امریکی جارحیت
سید بدرالدین الحوثی نے کہا: "ہمارے ملک پر امریکی جارحیت اسرائیلی دشمن کے خلاف ہماری لڑائی کا حصہ ہے۔ ہمارے ملک پر جارحیت کی وجہ یہ ہے کہ امریکی حکمران چاہتے ہیں کہ پورا خطہ اسرائیلیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔" انہوں نے مزید کہا: "یمن پر امریکی جارحیت بڑھ رہی ہے لیکن یہ جارحیت ناکام ہوئی ہے اور اس سے ہماری فوجی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔"
یمن پر جارحیت کے مذموم مقاصد حاصل نہیں ہوں گے
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا: "امریکی حکمران یمن پر جارحیت میں اپنے مذموم مقاصد ہر گز حاصل نہیں کر سکیں گے اور غزہ کی حمایت میں ہماری کارروائیوں کو بھی کبھی روک نہیں پائیں گے۔" انہوں نے مزید کہا: "اہم بات یہ ہے کہ ہم اسرائیلی اور امریکی دشمن کے ساتھ براہ راست تصادم کے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور یہ ہماری لڑائی کا حصہ ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "اگلے ہفتے سے غزہ کے حق میں یمنی عوام کا ملین مارچ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔" انہوں نے کہا: "ہم نے اسرائیل مخالف موقف اپنا رکھا ہے اور امریکہ نے اسرائیلی دشمن کا اتحادی ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک پر جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے۔" سید بدرالدین الحوثی نے کہا: "یمن پر امریکی جارحیت مکمل بربریت اور جرائم کے ہمراہ ہے اور وہ اپنے حملوں میں اسٹیلتھ جنگی طیاروں اور بمبار طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شہری اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ اپنے حملوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"